عبادت کی طرح جس میں بقا ہو

غزل

عبادت کی طرح جس میں بقا ہو
وہی پیکر مری جاں کی ادا ہو

​سکوتِ شب میں جو سنتا ہے دل کو
مرے ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہو

​چراغِ آرزو بجھنے نہ پائے
سحر ہونے تلک دستِ قضا ہو

​کچھ اس انداز سے ملنا ہے اس کا
جیسے مٹی سے خوشبو پھر جدا ہو

​مرے سجدوں کی لاج اس سے جڑی ہے
وہی بندہ جو شاہد پر فدا ہو

​نظر میں رقص کرتی ہے حقیقت
مری ہر سمت پھیلی اک ردا ہو

​محبت مانگتی ہے سر کی بازی
یہی مقتل میں جینے کا صلا ہو

نہ شکوہ ہے نہ کوئی اضطراب اب
مرا ہر حال تیری ہی رضا ہو

سنا ہے عرش لرزتا ہے دعا سے
پروں میں بجلیاں بھرتی نِدا ہو

خلوصِ قلب ہی تو اصلِ دیں ہے
لبوں پر بس تری حمد و ثنا ہو

نہ مٹ پائے کبھی نقشِ تمنا
مرا آئینہ ایسا ہی صفا ہو

گناہوں کی تپش سے کیا ڈریں ہم
خطاؤں کی مری تو ہی جزا ہو

حیا کی چادریں اوڑھے ہوئے ہیں
مرا ہر لفظ تصویرِ حیا ہو

سجی ہے بزمِ ہستی جس کے دم سے
وہی ہستی تو جینے کی ادا ہو

زمانے بھر کی تہذیبیں سنور جائیں
نعیم اس کی گلی کا جو گدا ہو

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top