(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
ایک ناسور بنتا المیہ
معاشرتی رویے کسی بھی قوم کے اخلاقی و فکری معیار کا آئینہ ہوتے ہیں۔ جب معاشرہ وسعتِ نظر، رواداری اور اختلافِ رائے کو قبول کرنے کی بجائے جبر، تنگ نظری اور نفرت کے اصولوں پر قائم ہونے لگے، تو وہ بگاڑ کی اُس نہج پر پہنچ جاتا ہے جہاں اختلاف جرم بن جاتا ہے اور پسند و ناپسند کی آزادی چھننے لگتی ہے۔
آج کے دور میں ایک خطرناک رویہ جسے ہم نظرانداز کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ جو چیز یا نظریہ ہمیں پسند نہیں، وہ کسی اور کو بھی پسند نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اپنی پسند کو کائناتی سچائی اور اپنی ناپسند کو حتمی گناہ سمجھنے لگے ہیں۔ اگر کوئی دوسرا ہماری پسند سے مختلف سوچ رکھے تو ہم نہ صرف اس کی رائے مسترد کر دیتے ہیں بلکہ اس کے وجود کو بھی رد کرنے لگتے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو تباہ کر رہا ہے بلکہ افراد کے ذہنی سکون اور فکری آزادی کو بھی دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
یہی عدم برداشت ہے جو اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدل دیتی ہے۔ ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ جو ہماری سوچ سے متفق نہیں، وہ یا تو جاہل ہے یا گمراہ۔ ہم دلیل کے بجائے تحقیر، مکالمے کے بجائے دھمکی اور برداشت کے بجائے تعصب کو اپنا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ شدت پسندی، عدم رواداری اور انتہا پسندی کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔
عدم برداشت کا یہ ناسور صرف مذہب، سیاست یا نظریات تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ہمارے روزمرہ کے معمولات میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر اگر کوئی شخص ہمارے نظریے کے برعکس کچھ کہہ دے تو ہم اسے بے دریغ تنقید، بدتمیزی اور نفرت کا نشانہ بنانے لگتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں ہمیشہ مختلف سوچ رکھنے والے لوگ رہے ہیں، اور یہی فکری تنوع معاشرتی ترقی کا سبب بنتا ہے۔
یہی رویہ ہمیں ذاتی زندگی میں بھی مشکلات میں مبتلا کرتا ہے۔ اگر خاندان میں کوئی فرد ہمارے مطابق زندگی نہ گزارے، تو ہم اس سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔ اگر کسی دوست کی رائے ہمارے خیالات سے مختلف ہو، تو ہم اسے مسترد کر دیتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ہمارے رشتوں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ہمیں تنہائی اور ذہنی الجھنوں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر انسان کی اپنی انفرادی سوچ، نظریہ اور پسند ہوتی ہے۔ جس طرح ہمیں اپنی رائے رکھنے اور اسے اظہار کرنے کا حق حاصل ہے، اسی طرح دوسروں کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا، مکالمے کو فروغ دینا، اور دوسروں کی پسند کو قبول کرنا ایک باشعور اور مہذب معاشرے کی علامت ہے۔ ہمیں اپنی سوچ کو وسعت دینی ہوگی، دلوں میں برداشت پیدا کرنی ہوگی اور یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا میں ہر رنگ، ہر نظریہ اور ہر سوچ اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے۔
اگر ہم نے آج اپنی تنگ نظری کو نہ بدلا، تو یہ عدم برداشت ایک ایسا ناسور بن جائے گا جو ہماری نسلوں کی فکری آزادی، محبت اور باہمی احترام کو کھا جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کی پسند کو برداشت کرنا سیکھیں، اختلافِ رائے کو دشمنی کے بجائے مکالمے کا دروازہ سمجھیں اور معاشرے میں وہ فضا قائم کریں جہاں ہر شخص اپنی انفرادیت کے ساتھ جینے کا حق رکھتا ہو۔
