عادتوں کا شہر

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی ایک نہ ختم ہونے والا سنگ تراشی کا عمل ہے، جہاں وقت، ہماری سوچ، اور اعمال ہتھوڑے کی مانند ہماری شخصیت کو تراشتے ہیں۔ عادتیں وہ چپکے سے کام کرنے والے سنگ تراش ہیں جو یا تو ہمارے وجود کو ایک شاہکار میں ڈھال دیتے ہیں یا کسی بے ترتیب پتھر کے ڈھیر میں بدل دیتے ہیں۔ ہر دن ہمارے وجود کی تراش خراش کا ایک لمحہ ہے، جس میں ہر انتخاب ایک ضرب کی مانند ہوتا ہے۔

جب ہم خود سے فرار چاہتے ہیں تو زندگی ہمیں عادتوں کے خاموش جال میں پھنسا دیتی ہے۔ یہ جال ابتدا میں نرم ریشم کی طرح محسوس ہوتا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ زنجیر بن جاتا ہے۔ بعض عادتیں ایسی ہوتی ہیں جیسے کوئی اندھیری گلی، جہاں ہم بار بار بھٹک جاتے ہیں۔ مگر کچھ عادتیں روشنی کے وہ دیپ ہیں جو ہمیں بھٹکنے سے بچاتے ہیں اور ہماری راہوں کو منور کرتے ہیں۔

عادتوں کا سفر بھی ایک پہاڑ کی مانند ہوتا ہے، جس کی بلندی ابتدا میں ناقابلِ تسخیر دکھائی دیتی ہے۔ ہم اکثر فوری تبدیلی کے خواب میں کھو جاتے ہیں، جیسے کوئی پہاڑ کو ایک ہی جست میں سر کرنے کی خواہش رکھے۔ لیکن عادتوں کی دنیا میں یہ راستہ مایوسی کی وادی سے ہو کر گزرتا ہے۔ وہ لوگ جو یک دم اپنی شخصیت کو بدلنے کا خواب دیکھتے ہیں، جلد ہی شکست خوردہ محسوس کرنے لگتے ہیں۔

عادتوں کا پہاڑ صرف چھوٹے مگر مستقل قدموں کی گونج سے سر ہوتا ہے۔ ہر دن کا ایک معمولی عمل، ایک معمولی قدم، وہ بنیاد بنتا ہے جو بالآخر بڑی کامیابی کی چوٹی تک لے جاتا ہے۔ جو لوگ اپنے ہر چھوٹے قدم کو اہمیت دیتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی ذات میں مثبت تبدیلی پیدا کرتے ہیں بلکہ ہر لمحے کا لطف بھی اٹھاتے ہیں۔
زندگی ایک ایسا شہر ہے جہاں ہر گلی عادتوں کی سمت لے جاتی ہے۔ کچھ عادتیں روشن سڑکوں کی طرح ہوتی ہیں جو منزل کی جانب لے جاتی ہیں، جبکہ کچھ اندھیری گلیاں بن جاتی ہیں جہاں ہم خود کو بھٹکتا ہوا پاتے ہیں۔ ناکامی اس شہر کے کسی ویران چوک کی مانند ہوتی ہے، جو ہمیں رکنے پر مجبور کرتی ہے۔ لیکن یہ وہی مقام ہوتا ہے جہاں خود شناسی کے دروازے کھلتے ہیں۔

نیوروہییکس(Neurohacks)جیسا فلسفہ اس شہر کے نقشے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دراصل دماغ کے اندرونی نظام اور عادتوں کی تشکیل کے سائنسی اصولوں کو سمجھنے کا نام ہے۔ نیوروہییکس سکھاتا ہے کہ ہم اپنے ماحول، ذہنی رجحانات، اور عادتوں کو اس طرح ترتیب دے سکتے ہیں کہ وہ مثبت تبدیلی کو آسان بنا دیں۔ جب ہم اپنی شعوری گلیوں میں جھانکتے ہیں تو ہمیں اپنی خامیاں نہیں بلکہ امکانات دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ہر زخم وہ نقش بنتا ہے جو ہماری ذات کے فن پارے کو منفرد بناتا ہے۔
حقیقی کامیابی شہر کی بلند و بانگ عمارتوں میں نہیں بلکہ ہمارے دل کی خاموش گلیوں میں سرگوشی کرتی ہے: تم نے خود کو تراش لیا، تم اپنی بہترین تخلیق ہو۔ زندگی کی حقیقی معراج یہ نہیں کہ ہم کامیاب ہوں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کے شہر کو اتنا خوبصورت بنا دیں کہ ہر راہ امن اور روشنی کی طرف جائے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top