الفاظ کی گہرائی

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

درد سے روشنی تک کا سفر

جو بھی تحریر
چاہے کہانی ہو، شاعری ہو یا کوئی اور تخلیقی اظہار
آپ کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دے، اسے محض سرسری طور پر قبول نہ کریں۔ اس کی گہرائی تک پہنچیں، اس کے پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کریں، کیونکہ الفاظ کا سفر لکھنے والے کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ ہر لفظ، ہر مصرع، ہر خیال کے پیچھے ایک داستان چھپی ہوتی ہے، ایک جدوجہد ہوتی ہے۔ لکھنے والے کو اپنی سوچ اور احساسات کی گہرائی میں اترنا پڑتا ہے، اپنی روح کی تاریکیوں کو کھنگالنا پڑتا ہے، تب جا کر الفاظ وہ چمک حاصل کرتے ہیں جو قاری کے دل تک پہنچتی ہے۔

تحریر لکھنا صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک قربانی ہے۔ ہر کہانی، ہر نظم، ہر غزل لکھنے والا اپنی ذات کے ایک حصے کو صفحے پر اتار دیتا ہے۔ آنکھوں کے آنسو، دل کا درد، اور روح کی چیخیں مل کر وہ الفاظ بناتی ہیں جو دوسروں کی زندگیوں کو بدل سکتی ہیں۔ یہ الفاظ محض الفاظ نہیں ہوتے، یہ کبھی امید کی کرن، کبھی رہنمائی کا چراغ، اور کبھی آئینہ بن جاتے ہیں، جس میں پڑھنے والا اپنی حقیقت کو دیکھ لیتا ہے۔

شاعری اس عمل کی سب سے لطیف اور پیچیدہ شکل ہے۔ شاعر اپنے اندر کی آگ کو الفاظ کے جامے میں ڈھالتا ہے۔ ہر مصرعہ وہ چیخ ہوتی ہے جو خاموشی سے دل کو چیر دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں معاشرے کے سبھی رنگ اور دکھ جھلکتے ہیں۔ جو شاعر یا ادیب اپنی تخلیق کے ذریعے دوسروں کے دلوں میں اترنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس نے اپنی ذات کے ایک حصے کو جلایا ہوتا ہے، اسے گہری اذیت سے گزارا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ لکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قلم کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے۔ جو بھی کہانی یا نظم لکھی جائے، وہ محض جذباتی اظہار نہ ہو، بلکہ ایک ایسا خیال ہو جو قاری کے ذہن کو جِلا بخشے۔ الفاظ ایسے ہونے چاہئیں کہ وہ کسی کے دل کی تاریکی کو روشنی میں بدل سکیں، کسی کے زخم پر مرہم رکھ سکیں، یا کسی کو اس کے راستے پر رہنمائی دے سکیں۔

تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ جو لکھا جائے، وہ اتنا مضبوط اور بامعنی ہو کہ اس پر سوال اٹھایا جائے تو لکھنے والا اس کا جواب دے سکے۔ تحریر صرف خیالات کا اظہار نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ یہ آپ کے الفاظ کی گونج ہے، جو وقت کے ساتھ باقی رہتی ہے۔ جو شاعر یا کہانی نویس اپنی تحریر کے لیے تحقیق کرتا ہے، اس کے معنی اور مقصد کو گہرائی سے سمجھتا ہے، وہی اپنی تخلیق کو ایک ایسی روشنی میں بدل سکتا ہے جو نسلوں تک دلوں کو روشن کرتی رہے۔

لہٰذا، چاہے آپ ایک کہانی لکھیں یا شاعری کا کوئی شاہکار تخلیق کریں، اس بات کا یقین کریں کہ آپ کے الفاظ میں وہ گہرائی ہو جو دلوں کو چھو لے، اور وہ روشنی ہو جو ذہنوں کو بدل دے۔ لکھنا نہ صرف ایک فن ہے بلکہ ایک امانت ہے، جسے ایمانداری اور بصیرت کے ساتھ نبھانا چاہیے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top