الفاظ کی سلطنت

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

الفاظ محض حروف کی ترتیب نہیں، بلکہ ایک ایسی لطیف قوت ہیں جو انسانی شعور کے تاروں کو چھیڑ کر نئے نغمے تخلیق کرتی ہے۔ یہ ایک غیر مرئی کائنات ہے، جہاں ہر لفظ اپنی معنویت، تاثیر اور گہرائی کے ساتھ زندہ ہے۔ جیسے روشنی اپنی کرنوں میں امکانات کی دنیا سمیٹے ہوئے ہوتی ہے، ویسے ہی الفاظ انسانی ذہن میں نئے جہانوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔

یہ سلطنت احساسات کی بستی ہے، جہاں ہر خیال اپنے اظہار کے لیے کسی نہ کسی لفظ کا لباس پہنتا ہے۔ کوئی لفظ امید کی روشنی ہے، تو کوئی مایوسی کا سایہ۔ کچھ لفظ مرہم کی طرح زخموں کو بھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تو کچھ دلوں میں اضطراب کی لہریں دوڑا دیتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان الفاظ کو کس نیت، کس شعور اور کس احساس کے ساتھ برتتے ہیں؟

الفاظ کی تاثیر اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب وہ خلوص کے آئینے میں عکس بنتے ہیں۔ محض زبان سے ادا ہونے والے جملے، اگر دل کی گہرائی سے نہ نکلیں، تو وہ خشک پتوں کی مانند ہوا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر وہی الفاظ جب احساس کی زمین پر اتریں، تو دلوں میں جڑ پکڑ لیتے ہیں، خوابوں کی تعمیر میں شامل ہو جاتے ہیں اور کبھی کبھی ایک پوری زندگی کا رخ موڑنے کی قوت رکھتے ہیں۔

اس لیے لازم ہے کہ الفاظ کے انتخاب میں وہی باریک بینی اور حکمت برتی جائے جو ایک مصور رنگوں کے امتزاج میں برتتا ہے، یا ایک معمار بنیادوں کی مضبوطی میں۔ کیونکہ جس طرح روشنی کا ایک ننھا سا ذرہ اندھیروں کو شکست دے سکتا ہے، اسی طرح ایک موزوں لفظ دلوں میں امید کے دیے جلا سکتا ہے۔ الفاظ کی یہ سلطنت محض زبان پر حکومت نہیں کرتی، بلکہ دلوں پر بھی راج کرتی ہے۔ اور جو اس سلطنت کا راز جان لیتے ہیں، وہ اپنی گفتگو، تحریر اور اظہار کو محض الفاظ سے نہیں، بلکہ احساسات اور حکمت کے سنگھار سے آراستہ کر دیتے ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top