(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
ندگی ایک بےکراں سمندر ہے، جس میں ہر کوئی کسی نہ کسی کنارے کی تلاش میں ہے، مگر وہ نہیں جانتا کہ کنارے ہمیشہ دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ کبھی موجیں بہا لے جاتی ہیں، کبھی طوفان بکھیر دیتا ہے، اور کبھی کوئی مسافر خود ہی پلٹ کر چلا جاتا ہے۔ جو اپنی امید کا چراغ دوسروں کے ہاتھ میں دیتا ہے، وہ اندھیروں کا مسافر بن جاتا ہے۔ جو اپنا گھر دوسروں کے سائے میں بساتا ہے، وہ جدائی کے پہلے جھونکے میں بے گھر ہو جاتا ہے۔
تمہیں سہاروں کی جڑوں میں زندگی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، تم خود اپنی بنیاد بنو۔ اپنے اندر وہ چراغ جلاؤ جو تمہیں خود روشن کر سکے، کیونکہ آسمان پر کوئی ایسا ستارہ نہیں جو ہمیشہ کے لیے تمہاری راتوں کو منور رکھے۔ ہر روشنی عارضی ہے، ہر سایہ فانی۔ اگر تم اپنی روشنی خود نہیں بنو گے تو ہمیشہ دوسرے چراغوں کی لو کے محتاج رہو گے، اور جب وہ بجھیں گے، تمہارا اندھیرا مزید گہرا ہو جائے گا۔
قربتیں خوبصورت ہوتی ہیں، مگر جب ان کا رشتہ ضرورت سے جڑ جائے تو یہ زنجیر بن جاتی ہیں۔ کسی کے ساتھ چلنا خوبصورت ہے، مگر جب تمہارا سفر مکمل طور پر کسی اور کے قدموں کی رفتار پر منحصر ہو، تو یہ غلامی بن جاتی ہے۔ اپنی خوشیوں کو دوسروں کے رویوں، چیزوں، یا لمحاتی تجربات سے جوڑنا ایسا ہی ہے جیسے کسی پرندے کو ہوا میں باندھنے کی کوشش کرنا—یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔
اپنے وجود کو ایک ایسا گھر بناؤ جہاں تمہیں کسی کی موجودگی پر منحصر نہ رہنا پڑے، جہاں کوئی بچھڑ جائے تو تمہاری دنیا نہ بکھرے۔ جہاں جدائی کی دیواریں کھڑی نہ ہوں، بلکہ ایک ایسا آنگن ہو جہاں تم خود اپنے لیے کافی ہو۔ تمہارے جذبات کا اختیار تمہارے ہاتھ میں ہو، تمہاری خوشی کی چابی کسی دوسرے کی جیب میں نہ ہو۔
خلفشار زندگی کا حصہ ہے، مگر اسے تم ہی ترتیب دے سکتے ہو۔ کوئی دوسرا نہیں آئے گا جو تمہاری بکھری ہوئی دنیا کو جوڑے، تمہاری الجھی ہوئی روح کو سلجھائے، یا تمہارے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو مرمت کرے۔ یہ سب تمہیں خود کرنا ہوگا۔ اپنی روشنی خود بنو، اپنے سفر کے راہی خود بنو، کیونکہ تم ہی اپنے ہونے کی سب سے بڑی حقیقت ہو۔
