(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کیا تم نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو اپنی محرومی کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں؟ جو اپنی بے بسی کو نصیب کا لکھا جان کر صبر کا تاج پہن لیتے ہیں؟ وہ مزدور جو دن بھر پسینہ بہا کر، شام کو خشک نوالہ کھاتے ہوئے بھی شکر ادا کرتا ہے، اور وہ جو حاکموں کی عیش و عشرت کو قدرت کا انعام سمجھ کر ان کے حق میں دعائیں کرتا ہے؟
یہی ہے “اقوام کی افیون”—ایک ایسا زہر جو مٹھاس میں گھول کر پلایا جاتا ہے۔ ایک ایسی زنجیر جو ریشم کے غلاف میں چھپا کر پہنائی جاتی ہے۔ یہ وہ فکر ہے جو ظلم کو نصیب کا حصہ، غربت کو سادگی کا حُسن، اور محکومی کو روحانی سکون کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔
یہ افیون سوچ کو مفلوج کر دیتی ہے۔ بغاوت کے شعلوں کو صبر کے پانی سے بجھا دیتی ہے اور قیدی کو اس کے پنجرے سے محبت کرنا سکھا دیتی ہے۔ یہ یقین دلاتی ہے کہ پرواز کی خواہش گناہ ہے اور آزادی کا خواب نافرمانی۔ یہ شعور کو اس قدر تھپک کر سلاتی ہے کہ جاگنے کو بے سکونی اور خواب دیکھنے کو گمراہی سمجھا جانے لگتا ہے۔
یہ افیون درس دیتی ہے کہ ظالم کے خلاف آواز نہ اٹھاؤ، کیونکہ “صبر کا اجر عظیم ہے۔” یہ کہتی ہے کہ غربت پر شکر کرو، کیونکہ “دنیا فانی ہے۔” یہ سمجھاتی ہے کہ جو تمہارے پاس ہے، وہ تمہارے مقدر کا حصہ ہے—اسے بہتر بنانے کی خواہش نہ کرو، کیونکہ “جو ملنا تھا، وہ مل چکا۔”
یہ وہ زہر ہے جو حاکموں کے لیے آبِ حیات ہے اور محکوموں کے لیے زوال کی کہانی۔ یہ وہ خواب ہے جو نسل در نسل غلامی کو وراثت بنا کر سینے سے لگوا دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا سکون ہے جو زخم کو دوا نہیں، تقدیر ماننے پر مجبور کر دیتا ہے۔
یاد رکھو، غلامی کا سب سے خطرناک لمحہ وہ ہے جب غلام اپنی زنجیروں سے محبت کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں زہر دوا بن جاتا ہے، اور افیون شعور کا متبادل۔
اب تمہیں یہ فیصلہ کرنا ہے—کیا تم صبر کے نشے میں مدہوش بھیڑوں کا حصہ بنو گے، یا ان بیدار لوگوں کی صف میں کھڑے ہو گے جو اپنی زنجیروں کو پہچانتے ہیں اور انہیں توڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔