(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسانی تعلقات کی بُنت ایک نازک توازن پر قائم ہوتی ہے، جہاں محبت اور برداشت کے دھاگے وقت کے تھپیڑوں سے بندھے رہتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو کھو دینے کے خوف میں الجھے صبر و برداشت کی دیواریں اٹھاتے رہتے ہیں، مگر یہ دیواریں اس وقت دھڑام سے گر جاتی ہیں جب برداشت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ وہی خوف جو پہلے رشتے کو قائم رکھنے کا محرک تھا، اپنی موت آپ مر جاتا ہے، اور یوں ہم جسمانی قربت کے باوجود روحانی طور پر ایک دوسرے سے کٹ جاتے ہیں۔
یہی لمحہ وہ نقطہ آغاز ہوتا ہے جہاں بے ثباتی کی حقیقت اپنی تمام تر شدت کے ساتھ آشکار ہوتی ہے۔ ہمیں یہ ادراک ہوتا ہے کہ ہر تعلق، ہر احساس، ایک وقتی قیام ہے۔ایک ایسی ندی جو کبھی ایک سا بہاؤ نہیں رکھتی۔ اس بے ثباتی کا شعور ہمیں تسلیم کی عظمت سکھاتا ہے؛ تسلیم اس حقیقت کا کہ زندگی میں کچھ بھی دائمی نہیں۔ یہی تسلیم ہمیں پیاس و تسکین کے حقیقی معنی عطا کرتا ہے۔
پیاس، جو کبھی کسی دوسرے کے مکمل ہونے کی خواہش تھی، اب خود کی تکمیل کی جستجو بن جاتی ہے۔ تسکین، جو کبھی قربت کے لمحوں میں ڈھونڈی جاتی تھی، اب ادراک کی روشنی میں پائی جاتی ہے۔ یہی وہ فلسفیانہ جادہ ہے جو انسان کو تعلقات کے دائروں سے نکال کر خود آگاہی کے وسیع میدان میں لے آتا ہے، جہاں بے ثباتی کا حسن، تسلیم کی عظمت، اور تسکین کی روشنی اپنا راز آشکار کرتی ہیں۔
درحقیقت، بے ثباتی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا حسن اس کی ناپائیداری میں مضمر ہے۔ یہ ہمیں باندھنے کے بجائے آزاد کرتی ہے تاکہ ہم ہر لمحے کو اس کی پوری شدت سے جئیں اور اس میں چھپے معنویت کو پا سکیں۔ یوں تسلیم ایک بوجھ نہیں بلکہ زندگی کے اسرار کو سمجھنے کا دروازہ بن جاتا ہے۔
