(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی ایک نہ ختم ہونے والا کارواں ہے، اور ہم سب اس کے مسافر ہیں—لیکن یہ سوال ہمیشہ باقی رہتا ہے کہ کیا ہم اپنی راہ پر گامزن ہیں یا محض ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ ہم میں سے ہر شخص ایک سمت کا متلاشی ہے، لیکن اکثر وہ سمت ہماری اپنی نہیں ہوتی؛ بلکہ یہ کسی انجانے معاشرتی بہاؤ کا تسلسل ہوتی ہے، جس میں ہم اپنی انفرادیت کو بھول کر محض ایک اور چہرہ بن جاتے ہیں، جو بھیڑ کے ہجوم میں گم ہو چکا ہوتا ہے۔
ہم ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں جہاں کامیابی کے خواب آنکھوں میں سجائے، ہم بس دوسروں کے نقشِ قدم پر چلتے رہتے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ وہ راہ شاید ہماری تقدیر کے لیے بنی ہی نہیں۔ ہمیں یقین دلایا جاتا ہے کہ اس دوڑ میں شامل ہوئے بغیر منزل نہیں ملے گی، لیکن یہ حقیقت کم ہی لوگ سمجھ پاتے ہیں کہ منزل کا تعین ہمیشہ اپنی شناخت کے شعور سے ہوتا ہے، نہ کہ بھیڑ کی تقلید سے۔
راستے کی تلاش دراصل ایک اندرونی خلا کا عکاس ہے—یہ تلاش کسی بیرونی منزل کی نہیں، بلکہ اپنے باطن کی ہوتی ہے۔ لیکن جب تک ہم خود کو پہچان نہیں لیتے، ہر راستہ ایک دھندلے خواب میں بدل جاتا ہے، ہر قدم ایک انجانی سمت میں اٹھتا ہے، اور ہم بے خبری میں اپنی اصل سے مزید دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
حقیقی سوال یہ نہیں کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ سمت واقعی ہماری اپنی ہے؟ یا پھر ہم محض کسی اور کے خواب کی تکمیل میں اپنی حقیقت کو فنا کر رہے ہیں؟ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں بھیڑ سے الگ ہو کر اپنی راہ خود بنانے کی ضرورت ہے—ورنہ ہم ایک ایسے سفر میں کھو جائیں گے جس کی کوئی منزل نہیں، بس ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ ہے۔
