(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
حقیقت کا گمشدہ راز
جاننا ایک دروازہ ہے، مگر سمجھنا اس کے پار کا جہان۔ ہم الفاظ کے جنگل میں بھٹکتے ہیں، کتابوں کی روشنی میں راستہ ڈھونڈتے ہیں، مگر جب تک شعور کی شمع نہ جلے، یہ سب کچھ محض سائے رہتے ہیں۔ علم ہاتھ میں جلتی ہوئی مشعل ہے، مگر سمجھ وہ روشنی ہے جو اندھیرے کو حقیقت میں بدلتی ہے۔
ہم اکثر جاننے کی جستجو میں گم ہو جاتے ہیں، یہ سوچتے ہوئے کہ زیادہ علم ہی ہمیں منزل تک پہنچائے گا۔ مگر جو کچھ ہم جانتے ہیں، وہ محض بے جان معلومات ہے، جب تک کہ ہم اسے اپنے احساسات اور تجربات کی سان پر نہ چڑھا لیں۔ ایک عالم ہزار کتابیں پڑھ سکتا ہے، مگر اگر وہ زندگی کے دکھ، خوشی، اور انسانی جذبات کے مدوجزر کو نہ سمجھے، تو وہ محض ایک کتابوں کا کتبہ رہ جاتا ہے، ایک زندہ روح نہیں۔
سمجھنا وہ خزانہ ہے جو ہر کسی کو نہیں ملتا، کیونکہ اسے تلاش کرنے کے لیے صرف ذہن ہی نہیں، دل کی آنکھ بھی درکار ہوتی ہے۔ یہ وہ نایاب جوہر ہے جو صرف تجربے کی آگ میں کندن بنتا ہے۔ جاننے سے ہم الفاظ کو پہچانتے ہیں، مگر سمجھنے سے ہم ان میں چھپی کہانیوں اور جذبوں کو محسوس کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی عظیم ترین دریافتیں عقل سے زیادہ ادراک کی گہرائی میں ڈوب کر کی گئیں۔ سقراط نے زہر کا پیالہ پیتے ہوئے علم کے نہیں، بلکہ فہم کے چراغ کو جلائے رکھا۔ رومی نے الفاظ کے سمندر میں اتر کر وہ موتی چنے، جو علم نہیں بلکہ بصیرت کے خزانوں سے نکلے تھے۔
حقیقت یہی ہے کہ علم ایک درخت ہے، مگر سمجھ اس کا پھل۔ اور جو لوگ سمجھنا سیکھ لیتے ہیں، وہی اصل میں زندگی کے رازوں کی گہرائی کو پا سکتے ہیں۔ مگر یہ خزانہ انہی کو ملتا ہے، جو سوالات سے نہیں، بلکہ اپنے اندر کی خاموشی سے جواب کشید کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
