Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو
چڑیا کہہ رہی تھی کوئی میرا سانحہ خرید لے
چند دانوں کے بدلے کوئی گھونسلہ خرید لے
یہ کس کے فیض سے دل کا نگر سنور گیا
میں خود سے دور ہوا، اور بھی نکھر گیا
ہجر میں دیکھے ہیں وصال کے عجب رنگ
دل کی سرگم میں گونجتے ہیں کئی سنگ
تنہائی کے کمرے میں جب شام نے پہرہ بدلا
نیند کی ناگن نے بھی اپنا چہرہ بدلا
چاند، سورج، ستارے سب آدمی کے لیے
آدمی پھر بھی ترستا ہے روشنی کے لیے
گزر جاتے ہیں لوگ دکھ اپنے سنا کر
سوچتا رہتا ہوں طوقِ گراں بار اٹھا کر
میں اُسے محبت کی دہائی دیتا رہا
وہ مجھے زخمِ جدائی دیتا رہا
رہنے کو گھونسلے کے سوا کیا دوں گا
فقیر ہوں، حوصلے کے سوا کیا دوں گا
ملتا نہیں مگر ہر پل خبر رکھتا ہے
اک شخص مجھ پر نظر رکھتا ہے
مرے اندر جو مجھ سے جدا سا ہے
وہ یوں لگتا ہے میرے خدا سا ہے
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
11
12
13
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top