Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو
میں جو خط لکھا ہوتا
پڑھنے کو دیا ہوتا
تحریر میں مری یہ ہنر جو ہے
یہ حرف حرف خون جگر جو ہے
اپنی حالت نہیں دیکھی جاتی
ایسی ہجرت نہیں دیکھی جاتی
ہم بھی ہیں آوارہ خیالوں کی طرح
وہ دور رہتا ہے غزالوں کی طرح
جن کو بھی ان رستوں نے ٹھکرایا تھا
منزل نے تو ان کا غم ہی کھایا تھا
جب کوئی اپنا راز چھپانے لگتا ہے
پہلے پہلے وہ آنکھ چرانے لگتا ہے
اپنے اندر سفر نہ کر لیں
بات کو مختصر نہ کر لیں
لوگ سمجھے ہیں جان توڑی ہے
اس نے میری تھکان توڑی ہے
ایک دن آئے گا ، ہستی سے گزر جانا ہے
لاکھ چاہوں نہیں جانے کا مگر جانا ہے
جل رہے چراغوں کی ضیا نہیں ہے
اب بھی کہہ رہے ہو وہ خفا نہیں ہے
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
14
15
16
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top