Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو
کتنا عجب ہے یہ معمہ دیکھنا
صحرا کو آندھی کی تمنا دیکھنا
سوچ لینا وفا سے پہلے
لوٹ آنا بلا سے پہلے
ساری خلق کو دکھائی دوں
خود کو مگر نہ سجھائی دوں
میں نے تو روایت بدل کے رکھ دی
ہر مردہ شریعت بدل کے رکھ دی
تیری یادوں کے آثار ملے
جیسے کہ پرانے یار ملے
تیری خواہش قبول کرتے ہیں
بھولنے کی بھول کرتے ہیں
میں نے جانا ہے کہاں سمجھ گیا ہے
راستہ قدموں کی زباں سمجھ گیا ہے
داد دینے کا اصول پوچھ رہا تھا
اشعار کا شانِ نزول پوچھ رہا تھا
جو سرِّ دار ہوتا ہے
وہی سردار ہوتا ہے
توڑ دو بے رحم بھوکی زنجیروں کو
کھا جاتی ہیں خوابوں کی تعبیروں کو
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
3
4
5
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top