Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو غزلیں
تنہا رہ گیا تعلق نبھاتے نبھاتے
بے نام ہو گیا نام بناتے بناتے
اہلِ خرد کیا جانیں ہوتا ہے جنوں کیا
بغاوت پر اتر آئے تو پھر مجنوں کیا
نہ جی رہی ہے، نہ مر رہی ہے
ماں اپنے بچوں سے ڈر رہی ہے
میں جس جگہ شجر تھا
وہی تو میرا گھر تھا
دل کی دہلیز کبھی جو پار کرو گے
یاد رکھنا خود کو سرِ بازار کرو گے
تم سے رابطہ میری عبادت تھی
میرا چین تھا، میری راحت تھی
صحرا میں دریا گنوا بیٹھا ہوں
ان دیکھے خواب میں الجھا بیٹھا ہوں
ملنے کو ترسنے والی باہیں مر گئیں
جسموں میں بھٹکتی روحیں مر گئیں
طول عمری یونہی بدنام ہو گئی
سو کر اٹھے تو شام ہو گئی
سوچتا ہوں وہ تماشہ کہاں گیا
وہ جیسا تھا، ویسا کہاں گیا
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
10
11
12
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top