Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو غزلیں
کچھ مشکل ہے کنارہ ہو بھی سکتا ہے
عشق مجازی ہے دوبارہ ہو بھی سکتا ہے
کسی خیال کی صورت مرے گماں سے نکل
سخن کے تیر مرے ہونٹ کی کماں سے نکل
آنکھوں نے میری دیکھا ہے منظر لہو لہو
مرے صحن میں آ کے گرا ہے کبوتر لہو لہو
مکیں سے خالی مکاں ہوتا ہے
جہاں پیار نہیں گماں ہوتا ہے
اور دوریاں تمہیں بڑھانی ہیں کیا
پھر ساری باتیں دھرانی ہیں کیا
یوں بےربط یہ زندگی تو نہ گزارو یارو
آئینہ دیکھ کے کوئی عکس اتارو یارو
ہم احساس بیچنے سرِ بازار آ گئے
سمجھتے ہی رہ گئے کہ خریدار آ گئے
تیرے شہر کے لوگ اکثر
دے جاتے ہیں روگ اکثر
زندگانی خراب لگتی ہے
تیرگی ماہتاب لگتی ہے
دل بہل جائے تو نفرت کیسی
پھر وہاں سے بھلا ہجرت کیسی
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
15
16
17
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top