Skip to content
Main Menu
پنجابی دوہڑے
پنجابی غزلیں
اردو قطعات
اردو غزلیں
تحریرات
اردو غزلیں
قلم قبیلہ ہے روشنی کی مثال
یہ بناتا ہے اندھیروں کو اجال
سبھی در و دیوار بولتے ہیں
مرے اندر مرے یار بولتے ہیں
وحشتِ شب میں اک منظر جاگ رہا ہے
میں سو رہا ہوں مگر گھر جاگ رہا ہے
اسی لئے تو کوئی منظر نہیں بدلتا
چشمہ بدلتا ہے وہ نظر نہیں بدلتا
زندگی تیرے ناز اٹھاتے اٹھاتے
جان سے جاؤں گا آخر جاتے جاتے
بند گلی سے ناطہ توڑنا پڑا
کرائے کا مکان تھا چھوڑنا پڑا
میری ہر بات کو اپنا ہی بیاں سمجھتا ہے
میرے منہ میں جیسے اپنی زباں سمجھتا ہے
وہ مجھے خود تک رسائی کیوں نہیں دیتا
میرا ہے تو پھر دکھائی کیوں نہیں دیتا
جس کے تھے اُسی کے ہو گئے
خاک اوڑھی اور ہم سو گئے
اپنی فتح کا جشن منا رہا ہے
مری دہلیز پہ درد لہرا رہا ہے
Posts navigation
← پچھلا صفحہ
1
…
4
5
6
…
25
اگلا صفحہ →
Scroll to Top