(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
چاند ہر رات آسمان پر طلوع ہوتا ہے، مگر کیا کسی نے اس کی تنہائی کو محسوس کیا ہے؟ وہ جو کائنات کی وسعتوں میں بھٹکتا ہے، زمین کے قریب ہو کر بھی ہمیشہ دور رہتا ہے، کیا اس کی چمک کے پیچھے کوئی اداسی چھپی نہیں؟
چاند کی قسمت میں بس دیکھے جانا لکھا ہے، چاہا جانا نہیں۔ وہ رات کے آسمان میں تنہا سفر کرتا ہے، بے شمار آنکھیں اسے تکتی ہیں، شاعری اس کے گرد بُنی جاتی ہے، عشاق اسے اپنی محبت کا گواہ بناتے ہیں، مگر کیا کبھی کسی نے چاند کے دل میں جھانک کر دیکھا؟
وہ رات کی تاریکی میں جگمگاتا ہے، مگر خود روشنی کا مالک نہیں۔ اس کی چمک کسی اور کے نور کی عطا ہے۔ وہ اپنی ذات میں مکمل ہو کر بھی ادھورا ہے۔ جیسے کوئی ایسا فنکار جو خود تو تخلیق کرتا ہے مگر اس کا وجود دوسروں کی روشنی سے جُڑا رہتا ہے، جو ستائش تو پاتا ہے مگر کسی کی قربت سے محروم رہتا ہے۔
چاند کا دکھ یہ نہیں کہ وہ تاریکی میں کھو جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ جب وہ مکمل ہوتا ہے، جب وہ سب سے زیادہ روشن اور حسین لگتا ہے، تب بھی وہ تنہا ہی ہوتا ہے۔ اس کی روشنی اسے دوسروں کے لیے باعثِ محبت تو بناتی ہے، مگر وہ خود اسی روشنی میں اپنی پرچھائیں کھو بیٹھتا ہے۔
کبھی کسی خاموش رات میں آسمان پر نگاہ ڈال کر چاند سے پوچھو،
“جب ساری دنیا تمہیں دیکھ رہی ہوتی ہے، تب تم کس کی طرف دیکھنے کو ترستے ہو؟”
وہ شاید خاموش رہے، مگر اس کی زرد روشنی میں چھپا کرب تمہیں وہ کہانی سنا دے گا جو صدیوں سے کسی نے نہیں سنی۔
