چناؤ— گلے کی رسی یا سر کا تاج؟

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی ایک مسلسل داستان ہے، مگر اس کا اصل رنگ انتخاب میں پوشیدہ ہے۔ ہر انسان دو راہوں کے بیچ کھڑا ہوتا ہے: ایک جو سہل، دلکش اور پرسکون معلوم ہوتی ہے، مگر درحقیقت زنجیروں میں جکڑتی چلی جاتی ہے؛ دوسری وہ جو سخت، ناہموار اور کٹھن ہے، مگر روح کو آزاد کر دیتی ہے، اسے امر کر دیتی ہے۔

یہی چناؤ ہے جو منصور کو دار پر چڑھا کر امر کر دیتا ہے، سقراط کو زہر کا پیالہ پلا کر دانش کی علامت بنا دیتا ہے، اور یہی چناؤ ہے جو کسی کو وقت کے سمندر میں ایک معمولی موج کی طرح گم کر دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ آسانی کے دھوکے میں آتے ہیں، وہ وقت کے گرداب میں ڈوب جاتے ہیں، اور جو کٹھن راہ کا انتخاب کرتے ہیں، وہ اپنے لہو سے چراغ جلا کر راہوں کو روشن کر جاتے ہیں۔

کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں قبولیت اور بغاوت، تسلیم اور انکار کے درمیان صرف ایک لمحے کا فاصلہ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ درخت کی طرح جڑوں سے کٹ کر بھی زمین کو گلے لگا لیتے ہیں کہ شاید اسی مٹی میں نئی زندگی جنم لے گی، اور کچھ لوگ ہر لمحہ اپنی ہی بغاوت میں الجھ کر اپنے گرداب میں گھر جاتے ہیں۔

اصل سوال یہی ہے— آپ کا چناؤ کیا ہے؟
گلے کی رسی، جو دنیا کے سکون کا سراب دکھاتی ہے؟
یا سر کا تاج، جو وقت کے ماتھے پر ایک انمٹ نشان چھوڑ جاتا ہے؟

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top