درد: انسان کا پوشیدہ سرمایہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

درد، ایک ایسا انمول خزانہ ہے جو زندگی کے تلخ تجربات، ناانصافیوں، المیوں اور زخموں کے ذریعے فرد سے فرد تک سفر کرتا ہے۔ یہ سرمایہ صرف ایک بوجھ یا آزمائش نہیں، بلکہ ایک موقع بھی ہو سکتا ہے، اگر ہم اسے سمجھیں اور صحیح طور پر استعمال کریں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ درد کیوں آتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس درد کے ساتھ کیا رویہ اپناتے ہیں؟ کیا ہم اسے دوسروں کو منتقل کر کے ایک دائمی زنجیر کا حصہ بناتے ہیں، یا اسے اپنی روحانی، تخلیقی اور معاشرتی ترقی کا ذریعہ بناتے ہیں؟

جیسے مالی سرمایہ، گردش میں رہ کر معیشت کو مضبوط بناتا ہے، ویسے ہی درد بھی ایک ایسا سرمایہ ہے جو انسانی تجربات اور شعور کے دائرے میں گردش کرتا ہے۔ مگر اس گردش کو روکنا یا اس کا رخ موڑنا ہمیشہ ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔ وہ شخص جو اپنے درد کو ہمدردی، تخلیق یا سکون میں بدل دیتا ہے، نہ صرف اپنی ذات کو آزاد کرتا ہے بلکہ معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کا آغاز بھی کرتا ہے۔

درد کے ساتھ برتاؤ کے تین بنیادی راستے ہیں:
تخلیق:
درد کو تخلیق کا ذریعہ بنانا، ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی اندرونی کیفیت کو باہر کی دنیا میں روشنی دیتا ہے۔ ایک شاعر اپنے غم کو شاعری میں بدل کر زندگی کے نازک پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے، ایک مصور اپنے دکھ کو رنگوں میں سموتا ہے، اور ایک سائنسدان اپنی ناکامیوں کو نئی راہوں کی دریافت میں بدل دیتا ہے۔ تخلیق، درد کو ایسی طاقت میں تبدیل کرتی ہے جو نہ صرف خود انسان کو سکون دیتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی نئی امیدوں کی کرن بن جاتی ہے۔
ہمدردی:
دکھ اور تکلیف کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ یہ ہمیں دوسروں کے درد کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل بناتا ہے۔ جو شخص خود اذیت کا سامنا کرتا ہے، وہ دوسروں کے زخموں کو زیادہ گہرائی سے محسوس کر سکتا ہے۔ ایسے افراد اپنے درد کو ہمدردی میں بدل کر دوسروں کے لیے سکون کا سبب بنتے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ، اعمال، اور رویے سے دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔
سکون:
زندگی کے دکھوں کو قبول کرنا، انہیں اپنی حقیقت کا ایک حصہ سمجھ کر تحلیل ہونے دینا، ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کو سکون اور توازن عطا کرتی ہے۔ درد کو فرار کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے زندگی کا ایک لازمی جزو تسلیم کرنا، ہمیں داخلی طور پر مضبوط اور بیرونی طور پر پُرسکون بناتا ہے۔ یہ قبولیت ہمیں اپنے وجود کی گہرائیوں میں جھانکنے اور ایک نئے شعور کے ساتھ زندگی کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

درد صرف ایک اذیت یا تکلیف کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا پوشیدہ سرمایہ ہے جو انسان کو جِلا بخشتا ہے، اگر اسے صحیح طور پر تھاما جائے۔ یہ یا تو ایک زنجیر بن کر ہمیں جکڑ سکتا ہے، یا روشنی کا ذریعہ بن کر ہماری زندگی کو نئی سمت دے سکتا ہے۔

درد وہ چنگاری ہے جو یا تو انسان کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے، یا اس میں ایسی روشنی پیدا کر دیتی ہے جو اندھیروں کو اجالا کر دے۔ فیصلہ ہمیشہ ہمارا ہوتا ہے کہ ہم اس چنگاری کو کس سمت میں لے کر جائیں۔

درد کو محض ایک بوجھ سمجھنے کے بجائے، اسے اپنے شعور اور ترقی کے لیے استعمال کریں۔ اس سے تخلیق، ہمدردی اور سکون کا راستہ نکالیں، اور اسے اپنی ذات اور معاشرے کے لیے مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنائیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top