(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی کی سب سے بڑی الجھن شاید یہی ہے کہ ہم ہر چیز کو اپنی مٹھی میں قید رکھنا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ تعلقات ہوں، خواب ہوں، کامیابیاں ہوں یا جذبات— ہم انہیں اپنی ملکیت سمجھ کر ان سے چمٹے رہتے ہیں۔ اور جب یہ چیزیں ہمارے قابو سے نکلنے لگتی ہیں تو بے چینی، اضطراب اور تکلیف ہمارا مقدر بن جاتے ہیں۔ مگر زندگی کا ایک عجیب سبق یہ ہے کہ جو چیز جتنی زیادہ قابو میں رکھنے کی کوشش کی جائے، وہ اتنی ہی ہاتھوں سے پھسلتی چلی جاتی ہے۔
دستبرداری کا فلسفہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ بعض اوقات چھوڑ دینا، تھامنے سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے کسی چیز کو جانے دیا تو شاید ہم کمزور ہو جائیں گے، مگر سچ یہ ہے کہ دستبرداری کمزوری نہیں، بلکہ اختیار کی سب سے بلند شکل ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہم اپنی ضد، انا اور قابو پانے کی خواہش سے آزاد ہو کر ایک گہرے روحانی سکون کو اپنا لیتے ہیں۔
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ چیزوں کو چھوڑنا نقصان کا باعث ہوگا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ چھوڑ دینے میں بھی ایک حکمت ہے۔ وہی شے جو کبھی بوجھ بن چکی ہو، جب ہم اسے جانے دیتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نے وزن کم نہیں کیا، بلکہ اپنی روح کو آزاد کر دیا ہے۔
زندگی میں جب بھی میں نے کسی شے، تعلق یا خواہش سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا، تو محسوس ہوا کہ میرے اندر ایک عجیب سکون اور وسعت پیدا ہو گئی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان سمجھتا ہے کہ وہ چیزیں جنہیں وہ اپنی زندگی کی ناگزیر حقیقت سمجھ رہا تھا، درحقیقت اس کی روح پر ایک بوجھ تھیں۔ جیسے کوئی پرندہ اپنے پنجروں سے نکل کر کھلی فضا میں پرواز کر جائے اور اُسے احساس ہو کہ اصل زندگی قید میں نہیں، بلکہ آزاد ہونے میں تھی۔
دستبرداری کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم خواب دیکھنا چھوڑ دیں، محبت کرنا بند کر دیں یا محنت کرنا ترک کر دیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم نتائج پر اپنا قبضہ جمانے کی ضد چھوڑ دیں، اور چیزوں کو ان کے فطری بہاؤ میں رہنے دیں۔ جو چیز ہمارے لیے ہے، وہ بہرحال ہمیں مل کر رہے گی، اور جو نہیں ہے، وہ خواہ ہم جتنی بھی جدوجہد کر لیں، ہمیں نصیب نہیں ہوگی۔
جب ہم دستبرداری کو اپناتے ہیں، تو ہم دراصل زندگی کے بہاؤ پر بھروسا کرنا سیکھتے ہیں۔ ہم دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے بجائے، اسے ویسا قبول کرتے ہیں جیسی یہ ہے۔ اور یہی قبولیت، سکون کی سب سے بڑی کنجی ہے۔
دستبرداری ایک کمزوری نہیں، بلکہ ایک ایسی طاقت ہے جو ہمیں دنیا کی ہلچل میں بھی خاموشی کی دولت عطا کرتی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو ہمیں دکھاتا ہے کہ اصل آزادی، قابو پانے میں نہیں، بلکہ چھوڑ دینے میں ہے۔