دکھ کی عبادت اور بے حسی کی مہریں

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی ایک پیچیدہ کہانی ہے، جس میں انسان اپنے دکھوں کو سینے سے لگا کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے، مگر عجب یہ ہے کہ وہی دکھ اس کی حقیقت بن جاتے ہیں۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ اکثر وہی دکھ اس کی زندگی کی دھڑکن بن جاتے ہیں، اور وہ انہی اذیتوں کی گلیوں میں اپنا وجود تلاش کرتا ہے، جیسے وہ ان دکھوں کے بغیر جیتا نہیں، بلکہ وہی دکھ اس کی روح کا نیا سکون بنتے ہیں۔

وہ دکھ جو ہماری تقدیر نہیں، بلکہ ہمارے اپنے ہاتھوں کی لکیریں ہیں۔ ہم دکھوں کو اپنی تقدیر سمجھ کر ان کی تقدیس کرتے ہیں، انہیں اپنی تقدیر کا حصہ بنا لیتے ہیں، اور اسی میں سکون تلاش کرتے ہیں۔ جب تک انسان دکھ کی تاریک گھٹا میں ڈوبا رہتا ہے، وہ دوسروں کی تسلیوں اور غمگساریوں کا محتاج ہوتا ہے، مگر جیسے ہی وہ دکھ کی تاریکی سے باہر نکل کر جینے لگتا ہے، وہی دکھ اس کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے، جیسے اب وہ زندگی کے دھارے کا حصہ نہیں رہا۔

ہم نے دکھ کی عبادت میں ایک عجیب سی لذت پائی ہے۔ ہم اپنے دکھوں کو سینچتے ہیں، انہیں پالنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب کوئی روتا ہے تو اس کی آنکھوں میں دریا تلاش کرتے ہیں۔
ہماری تسلی کی جڑ بے حسی میں ہے؛ ہم دکھ میں اپنے جذباتی درد کو تسلیم کر کے جھوٹی تسکین پاتے ہیں.مگر کبھی نہیں سوچتے کہ یہ دکھ ہم نے خود ہی تخلیق کیا ہے۔ کیا یہ دکھ، جو ہمیں اتنا قیمتی لگتا ہے، ہمارے ہی رویوں، ہماری روایات، اور ہمارے اندھے عقائد کا نتیجہ نہیں؟
دوسری طرف، وہ انسان جس کا دکھ کسی معاشرتی یا مذہبی معیار سے ٹکرا جاتا ہے، اس کا دکھ دکھ نہیں رہتا، وہ جرم بن جاتا ہے۔ دکھ جب جرم بن جائے، تو انسان انسان نہیں رہتا، وہ صرف ایک مجرم بن جاتا ہے۔
اس مجرم کو زندگی بھی صرف اس لیے دی جاتی ہے تاکہ وہ سانس لے، پچھتائے، اور مسلسل ٹوٹے، مگر اگر وہ ٹوٹ کر نہیں گرتا، اگر وہ ہمت سے جیتا ہے، تو اسے اتنا تنہا کر دیا جاتا ہے کہ جیسے وہ خدا بن چکا ہو۔ یہی ہمارے معاشرے کی بے حسی ہے، کہ ہم انسانوں کو مجرم بنا کر، پھر انہیں خدا بنا دیتے ہیں۔ ہم دکھ کی پوجا کرتے ہیں، اور انسانوں کو دکھ کے ترازو میں تولا کرتے ہیں، اور پھر اپنے ہی ہاتھوں سے ان کے وجود کو ریزہ ریزہ کر ڈالتے ہیں۔

یہ معاشرہ اپنے ہی بچوں کو نگل رہا ہے، اپنے ہی دکھوں کو پروان چڑھاتا ہے، اور ان دکھوں کی جڑیں اپنے خون سے سینچ کر ان کے پھول کھلاتا ہے۔ ہم جسے چاہیں مردہ سمجھ لیں، جسے چاہیں زندہ، ہم اسے اپنے ہی متعین معیار پر پرکھتے ہیں، جیسے انسان کی حقیقت کسی پیمانے کی محتاج ہو۔

، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ یہ مردہ اور زندہ کون طے کرتا ہے؟ کیا ہم نے کبھی یہ سوال کیا کہ یہ دکھ ہم نے کہاں سے تخلیق کیے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی اپنے اندر جھانکا ہے کہ ہم جس دکھ کی پوجا کر رہے ہیں، وہ دراصل ہماری ہی تخلیق نہیں؟ *ہم جب کسی انسان کو دکھ دیتے ہیں، اور پھر اس کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں، تو ہم بس اپنی سستی عبادت کو انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ہم دکھ کے تانے بانے کو دوسروں کے مقدر کا حصہ بناتے ہیں، اور پھر ان ہی دکھوں کے بچھائے ہوئے راستوں پر خود دعاؤں کے چراغ جلاتے ہیں۔ مگر یہ نہیں سوچتے کہ ہم خود ان دکھوں کے خالق ہیں، اور ہم ہی ان دکھوں کے پوجاری بھی۔

یہ دکھ، یہ اذیتیں، یہ تمام تکلیفیں، وہ ہم ہی ہیں جو انہیں تخلیق کرتے ہیں۔ ہم نے کبھی اپنے دکھوں کو جڑ سے سمجھنے کی کوشش کی؟ ہم نے کبھی یہ غور کیا کہ وہ دکھ جو ہم دوسروں کو دیتے ہیں، وہ ہمارے ہی اندر کی تلخی ہے؟ ہم نے کبھی اپنے ہی خون سے سینچے ہوئے دکھوں کو پہچاننے کی کوشش کی؟

یہ معاشرہ جسے چاہے مردہ سمجھ لے، جسے چاہے زندہ، مگر کیا ہم نے کبھی اپنے اندر جھانک کر یہ سوچا کہ ہم کس کے لیے جیتے ہیں اور کس کے لیے مرتے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی اپنے دکھوں کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کی؟ کیا ہم نے کبھی وہ مہریں پہچانی جو ہم اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنی تقدیر پر ثبت کرتے ہیں؟ ہم جو دکھ کے عبادت گزار ہیں، ہمیں ایک دن اس کا جواب دینا ہو گا، کہ یہ دکھ ہم نے خود تخلیق کیا ہے، اور اس کا گناہ ہم پر ہی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top