دنیا کے اس سرائے سے ہم بے نشاں چلے
باندھے ہوئے کمر سوئے دارِ اماں چلے
منزل کی جستجو میں کٹی عمرِ رائیگاں
ہم گر پڑے تو چھوڑ کے سب کارواں چلے
ذکرِ رخِ منور و زلفِ دراز تھا
کچھ آگ جل اٹھی تو کہیں سے دھواں چلے
حکمت سے چارہ ساز نہ کر امتحانِ جاں
جب روح ہی نکل گئی، نبض اب کہاں چلے
تسکینِ دل کی راہ میں حائل تھی زندگی
طوفاں کو ساتھ لے کے سوئے لا مکاں چلے
لایا ہی تھا کیا یہاں جو لے چلے نعیم
خالی ہی ہاتھ آئے تھے، خالی مکاں چلے
