(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان ازل سے ہی رب کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
کوئی پہاڑوں میں گیا، کوئی غاروں میں چھپا، کسی نے روزوں کی شدت اپنائی، کسی نے دنیا ترک کر دی۔ مگر ایک حقیقت اٹل رہی — کہ اللہ نہ فاصلے میں تھا، نہ بلندی میں، نہ گہرائی میں — بلکہ وہ تو “أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ” (انسان کی شہ رگ سے بھی قریب) ہے۔
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے…اگر وہ اتنا قریب ہے، تو پھر انسان کیوں دور ہے؟ اگر وہ رحمن ہے، مہربان ہے، سننے والا ہے، تو پھر دعا بےاثر کیوں رہتی ہے؟ اگر وہ ہدایت دینے والا ہے، تو پھر بھٹکنے والے کیوں اتنے ہیں؟ اس کا جواب ایک ہی ہے — فاصلہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے، اور وہ فاصلہ علم کا ہے۔ یہ فاصلہ نہ جسمانی ہے، نہ جغرافیائی۔ یہ نہ زمین کا ہے، نہ آسمان کا۔ یہ دراصل ایک ادراکی فاصلہ ہے — ایک شعوری خلا، ایک معرفت کا فقدان۔
بندہ اللہ کو پکار تو لیتا ہے، مگر جانے بغیر کہ وہ کس کو پکار رہا ہے۔
بندہ عبادت تو کرتا ہے، مگر سمجھے بغیر کہ جس کے سامنے جھک رہا ہے، وہ کون ہے۔ یہی لاعلمی، یہی ظاہری عقیدت اور باطنی جہالت… اصل میں وہ پردہ ہے، جو اللہ اور بندے کے درمیان حائل ہے۔
اسی لیے قرآن بار بار”یعلمون”، “یتفکرون”، “یعقلون”، “افلا تبصرون” جیسے الفاظ سے جھنجھوڑتا ہے۔
کیوں؟ کیونکہ فاصلہ جہالت کا ہے، لاعلمی کا ہے، علم نہ ہونے کا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ علم جو اللہ تک لے جائے، وہ کہاں سے حاصل ہو؟ کیا وہ کتابوں میں ہے؟ فلسفے میں؟ صوفیوں کی خلوت میں؟ یا راہبوں کی ریاضت میں؟
نہیں! وہ علم صرف وہاں ہے جہاں اللہ نے اپنا تعارف سب سے کامل انداز میں کروایا: سیرتِ محمد مصطفیٰ ﷺ میں۔
رسول اللہ ﷺ کی ذات وہ واحد مرکز ہے جہاں خدا کا علم، اس کی صفات، اس کی رضا، اس کی محبت، اس کی خشیت، اور اس کی معرفت — سب مجسم ہو کر جلوہ گر ہوتے ہیں۔
انسان اگر علمِ خدا چاہتا ہے، تو وہ نہ براہِ راست عرش پر جا سکتا ہے، نہ لوحِ محفوظ کو پڑھ سکتا ہے۔
مگر رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو پڑھ کر، سمجھ کر اور اس راہ پر چل کر وہ خدا کو پہچان سکتا ہے۔
سیرتِ رسول ﷺ: وہ آئینہ جو پردہ ہٹا دیتا ہے، سیرتِ طیبہ ﷺ صرف واقعات کی فہرست نہیں —بلکہ ایک جیتی جاگتی تفسیرِ الہٰی ہے۔
قرآن ایک کتاب ہے، مگر اس کی تفہیم رسول اللہ ﷺ کے عمل، اخلاق، خاموشی، صبر، غضب، معافی، انصاف، عشق، اور تعلق باللہ کے آئینے میں ہی ممکن ہے۔
قرآن “اقرأ” کہتا ہے — مگر کیا پڑھنا ہے؟ کیسے پڑھنا ہے؟ کس نیت سے پڑھنا ہے؟ یہ سب رسول ﷺ کے عمل سے سیکھنے کی چیزیں ہیں۔
اسی لیے جو علم، سیرتِ محمدی ﷺ سے کٹ جائے، وہ علم نہیں، صرف اطلاعات ہیں۔ اور جو عبادت، سنتِ نبوی ﷺ سے دور ہو، وہ قرب نہیں، صرف مشقت ہے۔
یہی علم اگر مکمل ہو، تو بندے کو رب سے ملا دیتا ہے؛
اور اگر ادھورا ہو، تو شیطان کو خدا سمجھ بیٹھتا ہے۔ جب علم، سیرتِ محمد ﷺ کے دریچے سے بندے کے دل میں اترتا ہے تو اس کی حالت بدلنے لگتی ہے۔
وہ خاموشی میں اذان سننے لگتا ہے۔ وہ تنہائی میں قرب محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ گناہ میں ندامت، اور نیکی میں رب کی خوشی دیکھنے لگتا ہے۔
علم کا یہ سفر، نماز کی ظاہری حرکات سے لے کر سجدے کے باطنی آنسو تک پہنچتا ہے۔
یہ سفر بندے کو بندگی کی معراج تک لے جاتا ہے —
جہاں وہ نہ صرف رب کو جانتا ہے، بلکہ رب اسے جاننے لگتا ہے۔
اسی لیے حدیث قدسی میں ہے:
میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے…یعنی فاصلہ جب علم سے پاٹ دیا جاتا ہے، تو بندہ اور رب ایک ہی مرکز پر آ جاتے ہیں۔ رب بندے کا نور بن جاتا ہے، بندہ رب کی رضا۔
دنیا کی ہر گمراہی لاعلمی سے پیدا ہوتی ہے، اور ہر ہدایت علم سے۔یہی وجہ ہے کہ پہلا وحی کا لفظ “اقْرَأْ” ہے — پڑھ! پہلا حکم علم کا ہے، نماز کا نہیں۔
کیوں؟ کیونکہ علم کے بغیر عبادت، عمل نہیں؛ مشقت ہے۔ پس، بندے کو چاہیے کہ وہ علم کا سفر کرے —مگر وہ علم جو رب کی طرف لے جائے، نہ کہ رب سے دور کرے۔ اور یہ علم کسی یونیورسٹی میں نہیں، کسی فلسفے میں نہیں، بلکہ سیرتِ محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک ایک لمحے میں پوشیدہ ہے۔
پس، اللہ اور بندے کے درمیان جو فاصلہ ہے — وہ علم کا ہے۔ اور وہ علم جس سے یہ فاصلہ مٹتا ہے — وہ صرف سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے حاصل ہوتا ہے۔