(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
دنیا ایک مسلسل تغیر پذیر کائنات ہے، جہاں ہر لمحہ ایک نئی جہت، ایک نئی کشمکش، اور ایک نئی تعبیر کو جنم دیتا ہے۔ وقت کا دھارا بظاہر ماضی کو پیچھے چھوڑتا ہے، مگر کچھ صدائیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت سے بلند ہو کر ہر عہد کے ضمیر کو جگاتی ہیں۔ کربلا کی صدا، حسین ابن علیؑ کی صدا، انہی لازوال صداؤں میں سے ایک ہے، جو نہ صرف ایک واقعے کی یادگار ہے، بلکہ ایک زندہ فکر، ایک آفاقی پیغام، اور ایک روحانی مزاحمت کی علامت ہے۔
آج جب ہم موجودہ عالمی استعمار کی ساخت، اس کی ذہنی یلغار، اور اس کی فکری حکمت عملی کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کربلا کا المیہ محض ایک تاریخی سانحہ نہیں، بلکہ ہر اس انسانی معاشرے کا آئینہ ہے جو طاقت، مفاد، اور نفس پرستی کے زیر اثر اپنا فطری راستہ بھول چکا ہو۔ استعمار کا اصل چہرہ کیا ہے؟ یہ طاقت کے بل پر اقوام کو غلام بنانے کی پرانی روش نہیں رہی۔ یہ اب ذہنوں، افکار، جذبات، شناخت، اور روحانی اساسات پر قبضے کی وہ چالاک حکمت عملی ہے، جو انسان کو بظاہر آزاد چھوڑتی ہے، مگر درحقیقت اس کی داخلی آزادی کو سلب کر لیتی ہے۔
موجودہ دور کا استعمار وہی یزیدیت ہے جو ظاہری ترقی، معاشی استحکام، اور فلاحی نعرے لے کر آتی ہے، مگر اس کی جڑیں ظلم، ناانصافی، اخلاقی انحطاط، اور روحانی افلاس سے عبارت ہیں۔ حسینؑ کا پیغام دراصل اسی استعماری نظام کے خلاف ایک ابدی اعلانِ جنگ ہے۔ وہ اعلان جو تلوار سے کم اور شعور سے زیادہ کیا گیا۔ حسینؑ نے ہمیں بتایا کہ حق صرف اس وقت زندہ رہتا ہے جب انسان اپنی جان، اپنا مال، اپنے عزیز، اور اپنی زندگی کی سب سے قیمتی متاع کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو۔
آج کا انسان، خواہ وہ کسی بھی مذہب، نسل یا خطے سے ہو، ایک داخلی کربلا کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ کربلا مادیت پرستی اور روحانیت کے بیچ کی جنگ ہے۔ یہ کربلا شناخت کے بحران اور وجودی سوالات کی جنگ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کو ہر روز فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ حق کے ساتھ کھڑا ہوگا یا خاموشی، مصلحت اور مفاد پرستی کے ساتھ۔ حسینؑ ہمیں بتاتے ہیں کہ خاموشی جرم ہے جب سچائی پر ظلم ہو رہا ہو۔ اور جب سچ کی آواز دبائی جا رہی ہو تو ہر لمحہ حسینؑ بننے کی دعوت ہے۔
استعمار اب صرف جغرافیائی نہیں، یہ فکری، تہذیبی، ثقافتی اور نفسیاتی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مغربی میڈیا، سرمایہ دارانہ نظام، سامراجی تعلیمی ادارے، اور بین الاقوامی پالیسی ساز ادارے، سب مل کر ایک ایسی دنیا کی تشکیل کر رہے ہیں جہاں انسان کی آزادی کو اس کے جذبات کے ذریعے، اس کی خواہشات کے ذریعے، اس کی شناخت کے ذریعے قید کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ قید ہے جو جیلوں میں نہیں بلکہ دماغوں میں لگی زنجیروں سے کی جا رہی ہے۔ حسینؑ کی فکر ان تمام زنجیروں کو توڑنے کا استعارہ ہے۔ وہ انسان کو باطن سے آزاد کرتی ہے تاکہ وہ ظاہر میں سچ بولنے کے قابل ہو سکے۔
کربلا کے میدان میں صرف نیزے اور تلواریں نہیں ٹکرائیں، بلکہ دو نظریے آمنے سامنے آئے — ایک وہ جو جبر، اقتدار، خوف اور مفاد پر قائم تھا، اور دوسرا وہ جو صداقت، آزادی، عدل اور روحانی جرأت کا نمائندہ تھا۔ امام حسینؑ نے اپنے قافلے کے ساتھ جو قدم اٹھایا، وہ تاریخ کا ایک عظیم ترین شعوری انقلاب تھا۔ یہ انقلاب کسی سلطنت کے خلاف نہیں، بلکہ اس نظام کے خلاف تھا جو انسان کو اس کی فطری آزادی، روحانی بلندی، اور اخلاقی بصیرت سے محروم کر رہا تھا۔ حسینؑ نے خیمے جلا دیے مگر اصول نہ چھوڑے، انہوں نے بچوں کی پیاس برداشت کی مگر ظلم سے مصالحت نہ کی، انہوں نے سروں کو نیزوں پر دیکھا مگر باطل کے سامنے سر نہ جھکایا۔
کربلا دراصل ایک روحانی مدرسہ ہے، جہاں سچائی کے متلاشیوں کو وفا، صبر، استقامت، قربانی، اور بصیرت کا درس دیا جاتا ہے۔ یہاں ہر لمحہ ایک پیغام ہے — کہ سچائی کی راہ میں تنہائی مقدر ہو سکتی ہے، مگر وہ تنہائی کائنات کے ضمیر کو جگانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ امام حسینؑ کا ہر قدم اس بات کا اعلان تھا کہ حق وہی ہے جو فطرتِ انسانی کے قریب ہو، اور جو باطل سے ٹکرائے بغیر رہ نہ سکے۔
آج کی دنیا جس بحران سے گزر رہی ہے — وہ صرف سیاسی یا معاشی نہیں، بلکہ گہرا روحانی بحران ہے۔ انسان ترقی کی بلند ترین منازل طے کر چکا ہے، مگر اس کی روح بے چین، اس کا ضمیر گم، اور اس کا دل خالی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں فکرِ حسینؑ ایک روشنی بن کر سامنے آتی ہے۔ یہ فکر ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم کے نظام کے خلاف محض احتجاج کافی نہیں، بلکہ داخلی تطہیر اور روحانی بیداری بھی لازم ہے۔
فکرِ حسینؑ استعمار کے خلاف ایک جامع اور ہمہ گیر مزاحمت ہے — جو صرف سیاسی انقلاب تک محدود نہیں، بلکہ انسان کے باطن کو بیدار کر کے اس کی فکری آزادی کو بحال کرنے کا ایک مقدس مشن ہے۔ حسینؑ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ استبداد صرف بندوقوں سے قائم نہیں رہتا، وہ ان ذہنوں سے طاقت لیتا ہے جو سوال کرنا چھوڑ دیں، وہ دلوں سے طاقت لیتا ہے جو خوف میں جینے کے عادی ہو جائیں۔ اور حسینؑ انہی ذہنوں اور دلوں کو جھنجھوڑنے کے لیے آئے۔
لہٰذا، موجودہ عالمی استعمار کے مقابل، امام حسینؑ کی فکر ایک کامل جواب ہے — جو صرف رد میں نہیں، بلکہ ایک متبادل نظامِ فکر و نظر میں مضمر ہے۔ ایک ایسی بصیرت جو انسان کو اس کی اصل پہچان، روحانی آزادی، اور اخلاقی جرأت واپس دیتی ہے۔ یہ فکر نہ کسی ایک قوم کی میراث ہے، نہ کسی ایک فرقے کی۔ یہ ہر اس انسان کی فکر ہے جو ظلم کے خلاف کھڑا ہونا چاہتا ہے، جو سچ کو خاموشی سے نہیں بلکہ کردار سے بلند کرنا چاہتا ہے۔
آئیے، کربلا سے سیکھیں — خاموشی کو توڑیں، ضمیر کو بیدار کریں، اور اندر کی قید سے آزادی پا کر باہر کے استعمار کے خلاف ایک حسینؑ کردار بن جائیں۔