(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کبھی سنا ہے کہ ہوا بھی دلیل دیتی ہے؟ مگر جب درختوں کے پتوں میں سرسراہٹ بھر جاتی ہے، تو کوئی اسے غور سے نہیں سنتا، سوائے ان کے جو خود خاموشی کی زبان سمجھتے ہیں۔ غربت کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے—یہ دلائل کی ہوا کو بھاری کر دیتی ہے، الفاظ کی روشنی کو مدھم کر دیتی ہے، اور سچائی کو زمین سے باندھ دیتی ہے جیسے کسی پرندے کے پر کاٹ دیے گئے ہوں۔
دلائل کی طاقت کا دار و مدار صرف منطق پر نہیں، بلکہ اس پر بھی ہے کہ کون کہہ رہا ہے، کہاں کہہ رہا ہے، اور کس کے سامنے کہہ رہا ہے۔ دنیا میں الفاظ کا وزن صرف ان کے معانی سے نہیں ناپا جاتا، بلکہ بولنے والے کی حیثیت سے تولا جاتا ہے۔ ایک غریب شخص چاہے کتنی ہی گہری بات کہہ دے، اس کے الفاظ اکثر دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جاتے ہیں، جیسے کسی سنسان وادی میں پکار گونجتی ہو مگر کوئی جواب نہ دے۔
غربت محض مالی محرومی نہیں، یہ سماجی اور فکری بیڑیاں بھی پہنا دیتی ہے۔ ایک بھوکا شخص اگر فلسفہ بگھارے تو لوگ اس کے خیالات سے زیادہ اس کے خالی ہاتھوں کو دیکھتے ہیں۔ اس کی عقل پر بحث کم ہوتی ہے، اور اس کے لباس پر زیادہ۔ دلیل کی طاقت وہاں قائم ہوتی ہے جہاں پیٹ بھرے ہوں، جہاں زبان کو اظہار کی آزادی ہو، اور جہاں سماعتیں صرف حیثیت کے ترازو میں نہ تولی جائیں۔
مگر سچائی کا ایک عجیب پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔ غربت کے بوجھ تلے دبے الفاظ کبھی کسی صوفی کے کلام میں امر ہو جاتے ہیں، کبھی کسی شاعر کی نظم میں جاگ اٹھتے ہیں، اور کبھی کسی انقلاب کے نعرے میں گونج بن کر سنائی دیتے ہیں۔ سچائی دب سکتی ہے، مگر مر نہیں سکتی—ہاں، غربت اس کے سفر کو کٹھن ضرور بنا دیتی ہے۔
