گمان کی طاقت

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

گمان ایک ذہنی اور نفسیاتی عمل ہے جو انسان کی حقیقت کے بارے میں شعور کو تشکیل دیتا ہے۔ یہ انسان کی فطری حالت میں ہے اور نہ تو یقین کی مکمل نوعیت اختیار کرتا ہے اور نہ ہی شبہ کی شدت کو پہنچتا ہے۔ گمان ایک ایسا دروازہ ہے جو انسان کو ممکنات کی دنیا میں گامزن کرتا ہے، اور یہی انسان کے خیالات، جذبات اور عمل کا محور بن کر اس کی تقدیر کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ گمان کی طاقت اس وقت تک موثر رہتی ہے جب تک وہ حقیقت کے قریب رہ کر خود کو حقیقت سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ یہی گمان انسان کی سوچ اور عمل کو ایک سمت دیتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ گمان کی حقیقت سے وابستہ طاقت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
فلسفیانہ نقطہ نظر سے، گمان انسان کے فطری ذہن کا حصہ ہے جو عقل سے جڑا ہوتا ہے۔ افلاطون نے گمان کو حقیقت کا دھندلا عکس قرار دیا، جو کسی نہ کسی حد تک انسان کے احساسات اور اس کے ارد گرد کی دنیا سے جڑا ہوتا ہے۔ اس کے مطابق، گمان کا یہ دھندلا عکس انسان کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیتا ہے جو ایک دن حقیقت تک پہنچ سکتا ہے، یا پھر اسی گمان کے دھندلے پردے میں زندگی گزار کر انسان اپنی تقدیر کا انتخاب کرتا ہے۔ گمان کی قدرتی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کو موجودہ حقیقت سے باہر نکل کر غیر محسوس امکانات کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ کبھی انسان کو ترقی کی طرف دھکیلتا ہے اور کبھی اسے گمراہی کی طرف۔

ہیگل کے فلسفے میں گمان کو ایک ایسا ابتدائی عمل سمجھا گیا ہے جس کی بنیاد پر انسان حقیقت تک پہنچنے کے سفر پر گامزن ہوتا ہے۔ ہیگل کے مطابق، انسان کا ذہن ہر مرحلے پر حقیقت کے نئے پہلو دریافت کرتا ہے اور گمان وہ ابتدائی سطح ہے جہاں انسان کی عقل حقیقت کے قریب پہنچنے کے لیے خود کو تیار کرتی ہے۔ گمان انسان کو سوالات پیدا کرنے کی تحریک دیتا ہے، اور یہ سوالات بالآخر اس کی حقیقت تک پہنچنے کا وسیلہ بنتے ہیں۔ اس طرح گمان حقیقت تک پہنچنے کی طرف ایک راستہ کھولتا ہے، جو انسان کی عقل کو جلا دیتا ہے۔

نفسیاتی سطح پر، سگمنڈ فرائڈ نے گمان کو انسانی ذہن کی غیر شعوری خواہشات کا نمائندہ قرار دیا۔ اس کے مطابق، گمان انسان کے اندر موجود غیر شعوری خواہشات، جذبات اور خوف سے جڑا ہوتا ہے، جو اس کی زندگی کو ایک مخصوص سمت میں متاثر کرتے ہیں۔ گمان کی بنیاد پر انسان نہ صرف اپنی موجودہ حقیقت بلکہ آنے والے ممکنات کے بارے میں بھی خیالات بناتا ہے۔ یہ خیالات بعض اوقات اس کی زندگی کو بہتر سمت دے دیتے ہیں، اور بعض اوقات وہ اسے غلط راہوں پر لے جاتے ہیں۔
روحانیت میں، گمان ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کو اپنے روحانی سفر میں مدد دیتی ہے۔

حضرت علیؓ نے فرمایا: جو گمان انسان کے دل میں ہوتا ہے، وہی اس کی تقدیر بن جاتا ہے۔ اس قول سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انسان کی تقدیر کا زیادہ تر دارومدار اس کے گمان پر ہوتا ہے۔ اگر انسان کا گمان مثبت ہو تو وہ اپنی تقدیر کو اچھائی کی طرف موڑ سکتا ہے، اور اگر منفی ہو تو وہ خود کو بے شمار مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔

قرآن میں بھی گمان کی طاقت کو اہمیت دی گئی ہے، جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ
(الحجرات: 12)
“اور بعض گمان گناہ ہیں۔”
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ گمان کا اثر نہ صرف ذہنی اور نفسیاتی سطح پر ہوتا ہے، بلکہ یہ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر گمان صحیح اور حقیقت سے ہم آہنگ ہو تو یہ انسان کے اندر اچھے نتائج پیدا کرتا ہے، لیکن اگر یہ گمراہی اور منفی خیالات کی بنیاد پر ہو تو انسان کو غلط راستوں پر لے جاتا ہے۔

گمان کی طاقت کی بنیاد پر انسان اپنی تقدیر کے امکانات کو خود تخلیق کرتا ہے۔ یہ ایک دو دھاری تلوار کی طرح ہے، جو کبھی انسان کو صحیح راستہ دکھاتی ہے اور کبھی غلط راستے پر لے جاتی ہے۔ گمان کا صحیح استعمال انسان کی کامیابی اور روحانی سکون کا باعث بنتا ہے، جبکہ اس کا غلط استعمال انسان کو اندھیروں میں گم کر دیتا ہے۔ لہٰذا، گمان کی قوت کو بہتر طور پر سمجھنا اور اس کا مثبت استعمال انسان کی زندگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یقیناً، گمان انسان کی زندگی کے ایک اہم جزو کے طور پر اس کی تقدیر کو شکل دیتا ہے۔ اگر گمان حقیقت کے قریب رہ کر عمل کرے، تو وہ انسان کی فلاح کا سبب بنتا ہے، اور اگر یہ غلط فہمیوں کی بنیاد پر ہو تو انسان کو گمراہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اس لیے گمان کی قوت کو سمجھنا اور اسے شعوری طور پر استعمال کرنا انسان کی زندگی میں کامیابی اور سکون کی کنجی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top