ہم نے رستوں میں نیا اک نقشِ پا پیدا کیا
تب کہیں جا کر شعورِ ارتقا پیدا کیا
صرف سجدوں سے نہیں ملتی ہے منزل عشق میں
ہم نے اشکوں سے وقارِ التجا پیدا کیا
تیرہ بختی کا گلہ تو ہر کسی کا کام ہے
ہم نے کالی رات میں نورِ صبا پیدا کیا
کج کلاہی، جاہ و منصب، سب ہی گردِ راہ ہیں
عشق نے مٹی سے اک رنگِ بقا پیدا کیا
فکرِ منزل میں لہو اپنا جلایا ہے، نعیم
تب کہیں جا کر مقامِ آشنا پیدا کیا
