ہر ذرہ شعور، ہر لمحہ حضور

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

صوفی کا دل اس لطیف ترین آلہ کی مانند ہوتا ہے جو کائنات کی غیر مرئی صداؤں کو بھی سن لیتا ہے۔ وہ شعور کی صرف سطح پر نہیں رہتا بلکہ شعور کی تہہ در تہہ گہرائیوں میں اترتا ہے، جہاں انسانی وجود کی معمولی لہریں ختم ہو جاتی ہیں اور کائناتی بیداری کی وہ خاموش موجیں شروع ہوتی ہیں جنہیں صرف دلِ عارف پہچانتا ہے۔ صوفی جانتا ہے کہ “شعور” کوئی جامد، خشک تصور نہیں بلکہ وہ زندہ نُور ہے جو تمام کائنات میں رواں دواں ہے۔ وہ شعور کو پکارنے والی دعا نہیں مانگتا، وہ خود کو شعور کے قابل بنانے کی جدوجہد کرتا ہے۔
جب صوفی اپنی ذات کی صفائی کرتا ہے، تو وہ ایک آئینہ بن جاتا ہے — ایسا آئینہ جو ہر حقیقت کو بغیر کسی تحریف کے منعکس کرتا ہے۔ یہ عمل تزکیہ، ریاضت اور مجاہدہ کا ہے، مگر اس کے انجام پر جو عطا ہوتی ہے، وہ شعور کی وحدت کا عرفان ہے۔ اسے پھر اپنے اور خدا کے درمیان کوئی پردہ محسوس نہیں ہوتا، ہر شے میں وہ ایک ہی روشنی دیکھتا ہے، ایک ہی صدا سنتا ہے، اور ایک ہی “حقیقت” کو محسوس کرتا ہے — جو شعور کی صورت میں ہر شے میں پیوست ہے۔
صوفی کے نزدیک وحدت الشعور فقط ایک نظریہ یا تصور نہیں، بلکہ ایک تجربہ ہے — ایسا تجربہ جو عقل کی سرحدوں سے باہر، اور دل کی گہرائی میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ جیسے جیسے سالک اس راہ پر چلتا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ ساری کائنات ایک زندہ تحرک میں ہے۔ ہر ذَرّہ گویا شعور کی سانس لے رہا ہے، ہر صدا شعور کی بازگشت ہے، ہر شے ایک دوسرے سے ربط میں ہے۔ کچھ بھی تنہا یا کٹ کر موجود نہیں، سب کچھ شعور کے ایک جال میں جڑا ہوا ہے۔ وہ جال جو نہ دکھائی دیتا ہے، نہ کسی ایک مرکز میں بند ہے، مگر جو سب کچھ ہے۔
یہی وہ تجربہ ہے جسے اہلِ حال نے وحدتِ وجود سے تعبیر کیا، مگر اس کی اصل روح وحدت الشعور ہے — یعنی ایسا شعور جو ہر شے کو اپنے دائرے میں سمیٹے ہوئے ہے۔ اور جب صوفی اس وحدت کو “محسوس” کرتا ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ عشق، عبادت، معرفت، صدق، حلم، صبر، اور فقر — یہ سب اُس ایک ہی شعور کے مختلف رنگ ہیں۔ وہ خدا کو صرف بلند آسمانوں میں نہیں ڈھونڈتا بلکہ وہ اسے ہر انسان کی آنکھ میں، ہر پتے کی تھرتھراہٹ میں، اور ہر لمحے کے راز میں محسوس کرتا ہے۔
یہاں سے ایک نیا افق کھلتا ہے — کہ صوفی کے لیے دوسروں کی خدمت، مخلوق سے محبت، اور خلق خدا کے لیے جی اٹھنا محض اخلاقی احکام نہیں بلکہ روحانی ضَرورت ہے۔ کیونکہ اگر ہر انسان شعورِ کل کا ایک ذرہ ہے، تو ہر دل کے زخم سے وہ خود زخمی ہوتا ہے، اور ہر چہرے کی مسکراہٹ اس کی اپنی روشنی بن جاتی ہے۔ یوں صوفی اپنی ذات کی اصلاح سے نکل کر کائناتی خدمت کی طرف بڑھتا ہے، کیونکہ وہ جان چکا ہوتا ہے کہ سب کچھ وہی ہے، اور جو کوئی بھی دکھ میں ہے، وہ اس وحدت الشعور کا بے چین ذرّہ ہے۔
یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں دعا اور عمل ایک ہو جاتے ہیں، عبادت اور خدمت ایک ہو جاتے ہیں، معرفت اور محبت ایک ہو جاتے ہیں، کیونکہ شعور اب وحدت اختیار کر چکا ہوتا ہے۔ صوفی جان لیتا ہے کہ خدا صرف عبادت گاہوں میں نہیں، بلکہ ہر انسان میں، ہر لمحے میں، ہر شے میں اپنی تجلی کے ساتھ موجود ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ خود بھی اسی وحدت الشعور کا ظہور ہے — نہ صرف اس کا حصہ، بلکہ اس کا شعورِ ناطق۔
ایسے میں “میں” ختم ہو جاتی ہے۔ جو باقی رہتا ہے وہ “ہُو” ہے۔ اور یہی وحدت الشعور کی معراج ہے — کہ انسان “میں ہوں” سے گزر کر “وہ ہے” تک پہنچ جائے، اور وہاں خود کو اُس روشنی کا عکس جانے جو آغاز و انجام کے ورے ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top