ہجر کی گمشدہ بازگشت

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ہوا کے کسی بےنام جھونکے میں، شب کی کسی الجھی ہوئی سسکی میں، یا شاید کسی پرانی دیوار پر پڑی نمی میں—کہیں نہ کہیں میری خاموشی تمہیں آواز دیتی ہے۔ تم نہیں سنتے، مگر پھر بھی میں کہتا ہوں۔

میری باتیں الفاظ کی قید سے آزاد ہیں، جیسے خزاں رسیدہ پتوں کی سرسراہٹ، جیسے برسات میں بھیگی گلیوں کا مدھم نوحہ، جیسے کسی پرانے خط کے مٹتے ہوئے حروف۔

تمہیں چھونے کی تمنا میں یہ خاموشی سانس لیتی ہے، کبھی ہلکی سی لرزش میں، کبھی بےتابی کی شدت میں۔ میری ہر چپ، ایک چیخ ہے—نرم، گہری، مگر بےحد بلند۔ تم نے سنا؟ نہیں سنا؟ شاید تم سننا ہی نہیں چاہتے۔

یہ خاموشی تمہیں پکارتی ہے، وہی اجنبی، پرانی آواز جو تم نے سنی تھی کسی گمشدہ لمحے میں، جب وفا کا آسمان ہجر کے بادلوں میں ڈوب رہا تھا۔ تم آؤ، ایک لمحے کے لیے ہی سہی، مگر آؤ—یہ خاموشیاں بےقرار ہیں، تم سے کچھ کہنے کے لیے، تمہیں اپنی گمشدہ بازگشت سنانے کے لیے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top