حواس کا سراب اور دلیل کی شمع

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

آنکھ جو دیکھتی ہے، کیا وہی حقیقت ہے؟ یا یہ محض روشنی کے زاویوں کا ایک دھوکہ ہے، جو اشیاء کو ان کے اصل سے مختلف بنا دیتا ہے؟ کان جو سنتے ہیں، کیا وہی سچائی ہے؟ یا محض ارتعاشات کی ایک ترتیب، جو ہمارے ذہن میں معنی کا دھوکہ پیدا کرتی ہے؟ لمس جو محسوس کرتا ہے، کیا وہ حقیقت کا پیمانہ ہے؟ یا پھر یہ فقط ایک عارضی سراب ہے، جو جلد اور اعصاب کے کھیل میں الجھا ہوا ہے؟

انسان ہمیشہ سے اپنے حواس کا قیدی رہا ہے۔ وہ جو دیکھتا ہے، اسے حقیقت سمجھ لیتا ہے؛ جو سنتا ہے، اسے سچائی مان لیتا ہے؛ جو محسوس کرتا ہے، اسے قطعی مان کر مطمئن ہو جاتا ہے۔ مگر سچائی ہمیشہ ظاہری مظاہر کی زنجیروں میں قید نہیں ہوتی۔ ریگستان میں جھلملاتے سراب کی چمک پانی کا دھوکہ دیتی ہے، مگر وہ پیاس نہیں بجھا سکتی۔ رات کے اندھیرے میں سائے لمبے ہو جاتے ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ حقیقت بدل گئی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں دلیل کی شمع روشن ہوتی ہے۔

دلیل وہ روشنی ہے جو حقیقت اور سراب کے درمیان حد فاصل کھینچتی ہے۔ یہ وہ میزان ہے جو سچ اور فریب کو ترازو میں تولتی ہے۔ یہ وہ تلوار ہے جو گمان کے پردے چاک کرتی ہے، وہ آئینہ ہے جو حقیقت کو اس کے اصل چہرے میں دکھاتا ہے۔ اگر آنکھ چمکتی ہوئی دھات کو سونا سمجھ بیٹھے، تو دلیل اس کے کھوٹ کو عیاں کرتی ہے۔ اگر کان ہزار آوازوں میں کسی ایک کو حق سمجھ بیٹھیں، تو دلیل انہیں راہ راست پر لے آتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے محض حواس پر بھروسہ کیا، وہ دھوکے میں جیتے رہے، اور جنہوں نے دلیل کا دامن تھاما، وہی حقیقت کی منازل تک پہنچے۔ سقراط نے زہر کا پیالہ پیتے وقت اپنی آنکھوں پر نہیں، اپنی دلیل پر بھروسہ کیا۔ گیلیلیو نے زمین کی حرکت کو ظاہری مشاہدے سے نہیں، بلکہ منطق اور استدلال سے جانچا۔ ابن الہیثم نے بصارت کے عمل کو آنکھوں کے مشاہدے سے نہیں، بلکہ سائنسی تحقیق سے ثابت کیا۔

یہی وجہ ہے کہ سچائی کو پرکھنے کے لیے محض دیکھنا، سننا اور چھونا کافی نہیں؛ اس کے لیے سمجھنا ضروری ہے۔ یقین وہی معتبر ہے جو دلیل کے آئینے میں اپنی سچائی کو ثابت کر سکے، ورنہ بصارت نابینا ہو سکتی ہے، سماعت بہری، اور لمس بےحس۔

حواس فریب دے سکتے ہیں، مگر دلیل کبھی دھوکہ نہیں دیتی۔ کیونکہ دلیل ہی وہ شمع ہے جو اندھیروں میں حقیقت کے خدوخال واضح کرتی ہے، جو فریب کے جنگل میں سچائی کی روشنی بکھیرتی ہے۔ اور جب دنیا کے ہر سراب کا پردہ چاک ہو جاتا ہے، تو صرف دلیل کی روشنی ہی باقی رہ جاتی ہے، جو انسان کو اندھی تقلید کی تاریکیوں سے نکال کر شعور کے اجالے تک لے جاتی ہے

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top