(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی معراج کا سب سے پہلا زینہ علم تھا۔ وحی کے ابتدائی لفظ اقرأ نے اس حقیقت کو واضح کر دیا کہ علم ہی انسانیت کی معراج کا راز ہے۔ یہ علم ہی تھا جس نے مٹی کے پتلے کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا اور اسے زمین پر خلافت کے قابل بنایا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جہاں انسان نے علم کے چراغ کو روشن رکھا، وہاں ترقی، امن اور خوشحالی کا دور دورہ ہوا۔ اور جہاں اس چراغ کو بجھا دیا گیا، وہیں زوال اور اندھیرے نے معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
علم کی جستجو:
تاریخ میں ایسے بے شمار افراد اور ادوار ہیں جنہوں نے علم کے ذریعے دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔ عباسی خلافت کے عروج کے دوران بغداد کا بیت الحکمت ایک عظیم الشان علمی مرکز تھا، جہاں دنیا بھر کے علوم و فنون کو جمع کیا گیا۔ اس لائبریری میں نہ صرف مسلم علماء بلکہ یونانی، فارسی اور ہندی فلسفیوں کے افکار کو بھی محفوظ کیا گیا۔
ابنِ سینا اور الخوارزمی جیسے عظیم دانشور اسی علمی ورثے کی پیداوار تھے، جنہوں نے طب، ریاضی، اور فلکیات کے میدان میں نئی راہیں متعین کیں۔
اندلس کی اسلامی ریاست کو بھی دیکھیں، جہاں قرطبہ کی لائبریریاں اور مسجدِ قرطبہ کا علمی ماحول ایک ایسا مرکز تھا جہاں دنیا بھر کے طلبہ علم حاصل کرنے کے لیے آتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، اور مسلم دنیا علم کی روشنی سے جگمگا رہی تھی۔
تباہی کا آغاز
تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں علم کی روشنی کو چھوڑ کر جہالت کی تاریکی میں گم ہو گئیں، تو وہ نہ صرف اپنی تہذیب و تمدن سے محروم ہوئیں بلکہ اپنے وجود کو بھی خطرے میں ڈال بیٹھیں۔ علم سے غفلت قوموں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب رہی ہے۔
اندلس کی مثال:
علم کا زوال اور جہالت کا غلبہ
اندلس، جو کبھی دنیا بھر میں علم و تہذیب کا مینارہ تھا، علم سے غفلت برتنے کے بعد خود اپنے ہی بوجھ تلے دب گیا۔ قرطبہ کی وہ عظیم الشان لائبریریاں، جو کبھی دنیا کے بہترین علمی ذخیرے کی محافظ تھیں، تباہ ہو گئیں کیونکہ علم کی حفاظت کرنے والے علماء اور اہلِ دانش آپس کی لڑائیوں میں مصروف تھے۔ اہلِ اندلس نے علم کو چھوڑ کر تعصب، سیاست اور اندرونی اختلافات کو اپنا شعار بنایا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ عظیم ریاست تاریخ کے صفحات میں ایک افسوسناک داستان بن کر رہ گئی۔
بغداد کی تباہی:
جہالت اور غیر عملی سوچ
1258ء میں تاتاریوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی ایک ایسی داستان ہے جو علم سے غفلت کے انجام کو واضح کرتی ہے۔ عباسی خلفاء نے اپنی حکومت کے آخری ادوار میں علم کو ایک مقدس ورثے کی بجائے محض ایک نمائشی چیز بنا دیا تھا۔ دارالحکمت جیسی عظیم لائبریری، جو صدیوں کے علمی ورثے کی محافظ تھی، علم سے بے پرواہ حکمرانوں کے سبب تاتاریوں کے ظلم کا شکار ہوئی۔ دریائے دجلہ کی لہریں ان قیمتی کتابوں سے سیاہ ہو گئیں جو کبھی روشنی کا ذریعہ تھیں۔
یہ صرف تاتاریوں کی جنگی طاقت نہیں تھی جس نے بغداد کو تباہ کیا، بلکہ عباسی سلطنت کے حکمرانوں کی علمی بے حسی اور عوام کی غیر شعوری حالت نے دشمن کے لیے راستہ ہموار کیا۔ علم کو عملی زندگی سے کاٹ دینا، دفاعی حکمتِ عملی سے بے خبر رہنا، اور عوام کو علم کی روشنی سے دور رکھنا اس سانحے کے اہم اسباب تھے۔
جہاں مسلم دنیا نے اپنے سنہری دور میں علم کو اپنایا، وہیں اس سے غفلت کے بعد مغربی دنیا نے علم کو اپنی بنیاد بنا کر ترقی کی۔ یورپ کے نشاۃِ ثانیہ کا آغاز اسی وقت ہوا جب انہوں نے مسلم علماء کی کتابوں کو پڑھا، ان کے نظریات کو سمجھا، اور عملی طور پر انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ یورپ نے لائبریریوں کو آباد کیا، تحقیق کو فروغ دیا، اور علم کے ذریعے ترقی کی وہ منزلیں طے کیں جو کبھی مسلم دنیا کا خاصہ تھیں۔
جہاں علم روشنی کا سبب ہے، وہیں جہالت اندھیرے کا استعارہ ہے۔ ایک ایسا شخص جو مختلف کتابوں کو پڑھتا ہے، وہ متنوع خیالات اور تجربات کو سمجھ کر اپنی شخصیت میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ مگر وہ شخص جو ایک کتاب کو مقدس تو مانتا ہے لیکن اسے پڑھتا نہیں، وہ تعصب، تنگ نظری اور جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، صلیبی جنگوں کے دوران یورپ میں جہالت عام تھی۔ مگر جب نشاۃِ ثانیہ کے دور میں علم و تحقیق کی حوصلہ افزائی کی گئی، تو یورپ نے ترقی کی راہیں ہموار کیں۔
علم سے غفلت کا انجام
جب علم کو صرف رسمی طور پر اپنایا جاتا ہے اور اسے زندگی کا حصہ نہیں بنایا جاتا، تو یہ قوموں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔ وہ قومیں جو اپنی مقدس کتابوں کو پڑھنے اور سمجھنے کے بجائے صرف تعظیم تک محدود کر دیتی ہیں، وہ عمل سے دور ہو کر جمود کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہی جمود ان کے زوال کا پہلا قدم ہوتا ہے۔
آج کی دنیا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر ہم ترقی، امن، اور خوشحالی کے خواہاں ہیں، تو ہمیں علم کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ لائبریریوں کو آباد کرنا، کتابوں کو پڑھنا، اور ان پر غور و فکر کرنا ایک مقدس سفر ہے جو ہمیں جہالت کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
علم سے غفلت کا مطلب صرف کتابوں کو چھوڑ دینا نہیں، بلکہ ان میں چھپے رازوں اور سچائیوں کو سمجھنے سے انکار کرنا ہے۔ ہمیں اپنی کتابوں کو الماریوں میں قید کرنے کے بجائے ان سے رہنمائی لینی ہوگی۔ تاریخ کی یہ گواہی ہمارے لیے چراغِ راہ ہے کہ علم وہ ہتھیار ہے جو قوموں کو عظمت کے بامِ عروج تک پہنچاتا ہے، اور علم سے غفلت وہ زنجیر ہے جو انہیں پستی کے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔
“علم کو اپنائیں، سمجھیں ، عمل کریں، اور دنیا کو روشنی سے بھر دیں۔”
