(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
ہر سانس سے شہ رگ یوں چھلنی ہوتی ہے، جیسے کوئی نادیدہ زخم ہر لمحہ ہرا ہو رہا ہو۔ شاید یہ عشق کا نصیب ہے—ایک ایسی جنگ جو دکھائی نہیں دیتی، مگر ہر گھڑی لڑی جاتی ہے۔ محبت، جو کبھی سکون کا پیام تھی، اب میدانِ کارزار بن چکی ہے۔
عشق ہمیشہ سے ایک جنگ رہا ہے، مگر یہ جنگ باہر نہیں، اندر لڑی جاتی ہے۔ دل کی زمین پر، روح کی سرحدوں پر، خیالوں کی گلیوں میں۔ یہ جنگ تلواروں سے نہیں، خاموشیوں سے ہوتی ہے۔ یہاں زخم گہرے ہوتے ہیں مگر نظر نہیں آتے۔ یہاں ہار جیت کا فیصلہ نہیں ہوتا، صرف آزمائشیں باقی رہ جاتی ہیں۔
کبھی محبت کا آغاز راحت سے ہوتا ہے، امید کی روشنی ہر طرف بکھرتی ہے، لیکن جوں جوں عشق گہرا ہوتا ہے، یہ اپنی اصل حقیقت آشکار کرنے لگتا ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں جذبات کی فوجیں صف آرا ہوتی ہیں، جہاں آنکھوں کی نمی ہی سب سے بڑی دلیل بن جاتی ہے۔ جہاں دل کی زمین پر وفاؤں اور بےوفائیوں کے نشان ثبت ہوتے ہیں، اور ہر یاد ایک سپاہی کی مانند دل پر وار کرتی ہے۔
محبت میں کچھ لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی کافر روح مسلمان ہو رہی ہو جیسے کوئی غافل پلٹ آیا ہو ، جیسے کوئی اپنے وجود کے کسی گہرے بھید سے واقف ہو رہا ہو۔ وہ آنسو، جو پلکوں پر لرزتے ہیں، دراصل اس جنگ کے نشان ہوتے ہیں جو ہم نے اپنی ذات میں لڑی ہوتی ہے۔
یہ عشق کی جنگ ہے، جہاں ہتھیار نہیں ہوتے، مگر ہار جیت کی شدت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہاں سر کٹتے نہیں، مگر انا کی دیواریں گرتی ہیں۔ یہاں فتح وہی حاصل کرتا ہے جو خود کو ہار دے۔ یہ وہ جنگ ہے جہاں سب کچھ کھو کر ہی سب کچھ پایا جاتا ہے۔
شاید یہی عشق کا ازلی سراغ ہے—یہ خاک بھی کرتا ہے اور امر بھی، یہ زخم بھی ہے اور مرہم بھی۔ جو اس وادی میں قدم رکھے، اسے جان لینا چاہیے کہ یہاں صرف وہی باقی رہتا ہے جو اپنی ہستی مٹا کر وجودِ مطلق میں جذب ہو جاتا ہے ۔