(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
باطن کی روشنی کا سفر
یہ خاک کا پتلا، جسے خود پر کمال کا گمان ہے، درحقیقت ایک ناتمام تحریر ہے، ایک ادھوری نوا، جس کی تکمیل کا راز اصلاحِ نفس میں پنہاں ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جو روح کی گرد کو صاف کر کے اصل عکس دکھاتا ہے، وہ چشمہ ہے جو دل کی بنجر زمین کو سیراب کر کے معرفت کے گل کھلاتا ہے۔
نفس کی راہ پر چلنے والا مسافر کبھی سراب کے پیچھے بھاگتا ہے، کبھی آرزوؤں کے جنگل میں بھٹک جاتا ہے، اور کبھی خود کو ایسی گلیوں میں پاتا ہے جہاں اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا ہے۔ مگر جو شخص اپنے اندر کے چراغ کو روشن کرنا سیکھ لے، وہ اندھیروں سے بھی روشنی کشید کر لیتا ہے۔ اصلاحِ نفس درحقیقت وہ آگ ہے جو وجود کی خامیوں کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے اور وہ آبِ کوثر بھی ہے جو دل کو آئینہ بنا دیتا ہے۔
دل اگر آئینہ ہے تو نفس اس پر پڑی گرد ہے، اور یہ گرد اتنی لطیف ہوتی ہے کہ انسان کو محسوس بھی نہیں ہوتی، مگر جیسے ہی کوئی اس پر دستک دیتا ہے، جیسے ہی کوئی دل کو حقیقت کی خلوت میں لے جاتا ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ آئینہ گرد سے نہیں، زنگ سے اٹا ہوا ہے۔ اور اس زنگ کو صبر کے پانی، عبادت کے صیقل، اور عشقِ حقیقی کی تپش سے ہی زائل کیا جا سکتا ہے۔
جو راہرو اصلاحِ نفس کی راہ پر نکلتا ہے، وہ پہلے خود سے الجھتا ہے، اپنے نفس کی فریب کاریوں سے برسرِ پیکار ہوتا ہے، پھر آہستہ آہستہ اس جنگ میں وہ ایک خاموشی پا لیتا ہے، ایسی خاموشی جو ہر چیخ سے زیادہ گونج دار ہوتی ہے، ایسی خاموشی جو کائنات کے اسرار کو عیاں کر دیتی ہے۔ وہ دنیا کے بازار میں رہ کر بھی خریدارِ حقیقت بن جاتا ہے، وہ صدا کے ہجوم میں رہ کر بھی سننے لگتا ہے، وہ تاریکیوں میں بھی روشنی کے سراغ پا لیتا ہے۔
یاد رکھو، اصلاحِ نفس وہ چراغ ہے جو جل جائے تو اندر کی گلیوں میں کبھی رات نہیں ہوتی، اور جو رات کے اندھیروں میں روشنی پا لے، وہی درحقیقت روشنی کا مسافر ہے۔
