(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
تم نے کبھی اُس شعلے کو دیکھا ہے جو کسی معصوم کی آنکھوں میں دہکتا ہے، جب اس کا سکون لوٹ لیا جاتا ہے؟ تم نے کبھی کسی ایسے دل کی دھڑکن سنی ہے جو رات کی تنہائیوں میں لرزتا ہے؟ تم نے کبھی سوچا ہے کہ تمہاری زبان کا ایک زہر آلود جملہ، کسی کی روح پر خنجر کی طرح کیسے اترتا ہے؟ نہیں؟
تو آؤ، میں تمہیں وہ کرب دکھاؤں جسے لوگ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے، صرف جیتے ہیں، سسکتے ہیں، اور آخرکار دعاؤں سے نہیں، بددعاؤں سے جُڑ جاتے ہیں۔
یہ دنیا ایک آئینہ ہے — تم جو دکھاتے ہو، وہی لوٹ کر آتا ہے۔ یہاں کے اصول نظر نہ آنے والے مگر ناقابلِ فرار ہیں۔ کسی کی مسکراہٹ چھین لینا صرف جرم نہیں، ایک ایسی لعنت ہے جو وقت کے دریا میں بہہ کر تمہارے ساحلوں پر طوفان بن کر لوٹتی ہے۔
کبھی کسی مظلوم کی بد دعا کو کان دھر کے سنو — وہ الفاظ نہیں ہوتے، دہکتے ہوئے انگارے ہوتے ہیں، جو خاموشی کی چادر میں لپٹے، عرش کی دہلیز تک چیخ بن کر پہنچتے ہیں۔ یہ وہ آتشیں آہیں ہوتی ہیں جو فلک کو چیر کر تقدیر کی پیشانی پر اذیت کا نوشتہ رقم کر جاتی ہیں۔ اُنہیں سننے میں تاخیر ہو سکتی ہے، مگر عدلِ خداوندی کو بیدار ہونے میں لمحہ بھی نہیں لگتا۔ ایک لمحے میں وہ آسمانوں کی خاموشی کو توڑ کر تمہاری زندگی کے سکوت میں ایسا زلزلہ برپا کر دیتی ہیں کہ سانسیں باقی رہتی ہیں، مگر جینے کی مہلت چھن جاتی ہے۔
تم سمجھتے ہو کہ جس پر ظلم کر رہے ہو وہ کمزور ہے؟ نہیں! وہ اُس خُدا کے در کے قریب ہوتا ہے جو اندھوں کے بھی آنسو گنتا ہے، جو بے زبانی کی چیخ کو عرش تک پہنچاتا ہے، اور جو ہر اُس دل کا وکیل ہے جو زمیں پر بے یار و مددگار رہ گیا۔
ظلم صرف وہ نہیں جو کوڑوں کی گونج میں سنائی دے، ظلم وہ بھی ہوتا ہے جو خاموشی کی چادر اوڑھے، تمہاری بے نیازی میں سانس لیتا ہے — جب تم کسی کی فریاد کو نظرانداز کر کے، اُس کی دعاؤں کی جگہ اس کے آنسو قبول کروا دیتے ہو، اور یوں اس کے سجدے آہوں میں بدل جاتے ہیں ،ظلم وہ بھی ہے جو تم نے کیا نہیں، مگر جان بوجھ کر نہ روکا — جب کسی کی امید ٹوٹتی ہے اور تم اس کے آنسو کو تماشہ سمجھ کر گزر جاتے ہو۔
کسی کی خاموشی کو کمزوری سمجھ کر اس پر حاوی ہونا، کسی کے سچ کو جھوٹ بنا کر دنیا کے سامنے تماشا بنانا۔
تم سمجھتے ہو تم کامیاب ہو؟
نہیں، تم قرض دار ہو۔
ہر وہ آنکھ جو تمہاری وجہ سے نم ہوئی، تمہارے نصیب پر قرض لکھتی گئی۔
ہر وہ دل جو تم سے زخمی ہوا، تمہاری آخرت پر بوجھ بنتا گیا۔
اور ایک دن ایسا آتا ہے کہ تم جینے کے قابل نہیں رہتے، اور مرنے کی اجازت بھی نہیں ملتی۔
خدا جب کسی سے ناراض ہوتا ہے، تو اسے مرنے کی راحت بھی نہیں دیتا۔ وہ سسکیاں تمہارا مقدر بنا دیتا ہے، جو تم نے کسی اور کے لیے روا رکھی تھیں۔
وہ نیند تم سے چھین لیتا ہے، جو تم نے کسی اور کی آنکھ سے چھینی تھی۔
وہ تمہارے گرد ایسا سکوت بُن دیتا ہے جہاں زندگی بھی تمہیں پرایا کر دیتی ہے اور موت بھی تمہاری دہلیز پر آنے سے انکار کر دیتی ہے۔
یاد رکھو، جو کسی کا جینا حرام کرتا ہے،
خدا اس کا مرنا حرام کر دیتا ہے — اور یہ کائنات کی سب سے بڑی سزا ہے۔