جنگ، بقا یا بے معنی کشمکش؟

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

دنیا ایک مسلسل میدانِ جنگ ہے— کہیں یہ جنگ خواہشات کی ہے، کہیں اقتدار کی، کہیں بقا کی، اور کہیں بس جنگ مسلط کر دی گئی ہے۔ ہر طرف شور ہے، ہتھیاروں کی نہیں تو زبانوں کی، دھوکے کی نہیں تو عزائم کی، ہوس کی نہیں تو انا کی۔ عجیب کشمکش ہے، کوئی جینا نہیں چاہتا، مگر مرنے کو بھی تیار نہیں۔ سب اپنے اپنے خول میں قید ہیں، ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے دشواریاں بڑھانے میں مصروف۔

طاقت، کمزوری اور بے سکونی— یہ دائرہ کیسے وجود میں آیا؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ طاقت کا نظام ہمیشہ کمزوروں پر قائم رہتا ہے۔ طاقتور کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ کمزور باقی رہیں، تاکہ وہ اپنی برتری برقرار رکھ سکے۔ مگر کمزور؟ وہ طاقتور کے رحم و کرم پر نہیں، بلکہ کسی اور سہارے کی تلاش میں ہوتا ہے۔ طاقتور دنیا کے نظام بدل سکتا ہے، مگر کمزور اپنے خدا کو نہیں بدلتا— کیونکہ وہی اس کی واحد پناہ گاہ ہے۔

مگر یہ جنگ صرف بیرونی نہیں، یہ اندر بھی جاری ہے۔ انسان اپنی ہی خواہشات کے ساتھ برسرِ پیکار ہے۔ جو مل جائے، وہ ناکافی لگتا ہے، جو نہ ملے، وہ سب کچھ لگتا ہے۔ ہم نے ایک ایسا دائرہ بنا لیا ہے جہاں طاقتور کو اپنی طاقت برقرار رکھنے کے لیے کمزوروں کی ضرورت ہے، اور کمزور کو اپنی بے بسی کے جواز کے لیے ایک معبود درکار ہے۔ دونوں اپنے اپنے محور میں گردش کر رہے ہیں، مگر حقیقت میں نہ کوئی جیت رہا ہے، نہ کوئی مکمل ہار رہا ہے۔

کیا ہم زندہ ہیں، یا بس زندہ رہنے کی جنگ میں قید ہیں؟
جب زندگی محض ایک جنگ بن جائے، جب جینا مقصد نہ رہے، جب ہر سانس ایک بوجھ بن جائے، تو موت بھی بس ایک رسم لگتی ہے۔ جہاں لوگ جینا ہی نہیں چاہتے، وہاں مرنے پر ماتم چہ معنی دارد؟ شاید ہمیں سانس رک جانے والوں پر افسوس کرنے کے بجائے ان پر رشک کرنا چاہیے کہ وہ اس بے مقصد کشمکش سے آزاد ہو گئے۔ شاید ہمیں ماتم کے بجائے شکر ادا کرنا چاہیے، کہ ایک روح اس بے سکونی کے دائرے سے نکل کر کسی اور جہان کی طرف روانہ ہو گئی۔

اب سوال یہ ہے— کیا ہم واقعی جی رہے ہیں؟
یا ہم محض اس جنگ کا حصہ ہیں جس کا کوئی انجام نہیں؟ اگر ہم نے خود کو صرف طاقت اور کمزوری کی اس جنگ میں جھونک دیا ہے، تو کیا ہم حقیقت میں زندہ ہیں؟ یا بس ان اجسام میں محبوس ہیں، جو ہر سانس کے ساتھ اپنی ہی بے سکونی میں گرفتار ہوتے جا رہے ہیں؟

زندگی کا اصل امتحان یہی ہے— کیا ہم اس جنگ سے آگے بڑھ کر کسی مقصد کو پا سکتے ہیں، یا ہمیشہ اس بے معنی کشمکش میں قید رہیں گے؟

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top