(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی اپنے اندر بے شمار پیچیدگیاں اور اسرار سمیٹے ہوئے ایک خاموش داستان ہے۔ ہر لمحہ نئے رنگ، نئے احساسات اور نئی حقیقتوں کا پرتو لیے ہمارے سامنے آتا ہے۔ ان سب کے درمیان جو شے سب سے زیادہ اہم ہے، وہ ہمارے جذبات ہیں۔ یہ جذبات ہی ہیں جو ہمیں انسان بناتے ہیں، زندگی کے مختلف رخ دکھاتے ہیں اور ہمارے وجود کو معنی بخشتے ہیں۔
مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے جذبات کی قدر نہیں کرتے۔ جذبات کا بھی ایک تقدس ہوتا ہے، لیکن جب انہیں بے محل اور بے مقصد خرچ کیا جائے تو یہ اپنی حرمت کھو بیٹھتے ہیں۔ ہم اکثر اپنی خوشیوں، محبتوں اور احساسات کو ان جگہوں پر ضائع کر دیتے ہیں جہاں ان کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا دل بے حس اور روح بے چین ہو جاتی ہے۔
صدقہ تک مستحق کو دیا جاتا ہے، پھر جذبات جیسی قیمتی دولت کیوں غیر مستحق جگہوں پر ضائع کی جائے؟ ہمیں اپنے احساسات کا بہترین استعمال سیکھنا چاہیے تاکہ یہ ہماری زندگی کو نکھار سکیں نہ کہ بوجھ بن جائیں۔
خودشناسی وہ آئینہ ہے جہاں انسان اپنی اصل صورت دیکھتا ہے۔ جب ہم خود کو پہچان لیتے ہیں تو ہمیں یہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ کس جذبے کو کب اور کہاں ظاہر کرنا ہے۔ خودشناسی نہ صرف ہمارے اندر کی الجھنوں کو ختم کرتی ہے بلکہ ہمیں زندگی کو سمجھنے کی نئی بصیرت بھی عطا کرتی ہے۔
زندگی کے اس سفر میں جذبات کی حفاظت بے حد ضروری ہے۔ ہر جذبہ ایک قیمتی سرمایہ ہے، اسے ضائع نہ کریں بلکہ سوچ سمجھ کر صرف کریں۔ محبت ہو یا غم، مسرت ہو یا دکھ، ہر جذبہ ہماری شخصیت کا ایک حصہ ہے۔ ان جذبات کو دبانے یا بے جا خرچ کرنے کے بجائے انہیں سنبھالنا چاہیے تاکہ ہم ایک متوازن اور پُرسکون زندگی گزار سکیں۔
زندگی کا عظیم ترین عرفان یہی ہے کہ انسان اپنے جذبات کی ماہیت کو سمجھ کر انہیں بصیرت و دانائی کے ساتھ بروئے کار لانا سیکھ لے۔ جب ہم اپنے جذبات کو ایک ترتیب میں رکھتے ہیں تو زندگی خودبخود حسین ہو جاتی ہے۔ آزمائشیں بھی آتی ہیں لیکن ہم ان کا سامنا بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔
یہی شعور ہمیں زندگی کے حقیقی معنی سکھاتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ جذبات کی حفاظت اور خودشناسی دراصل انسان کی روحانی اور نفسیاتی ترقی کی بنیاد ہیں۔
