(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
جہالت اور عقل کی کشمکش ازل سے جاری ہے۔ جہالت شور مچاتی ہے، چیختی ہے، اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لیے بے ہنگم آوازیں بلند کرتی ہے، جبکہ عقل ہمیشہ خاموشی میں اپنا کام کرتی ہے، دلیل سے روشنی بکھیرتی ہے، اور صبر کے ساتھ حقیقت کے پردے اٹھاتی ہے۔
جہالت کو ہمیشہ اپنی موجودگی کا اعلان کرنا پڑتا ہے، کیونکہ وہ عدمِ شعور کا شکار ہوتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ آواز کی بلندی دلیل کی طاقت ہے، مگر درحقیقت یہ محض ایک شور ہوتا ہے جو لمحہ بھر کے لیے توجہ مبذول کرا سکتا ہے، لیکن دیرپا اثر نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس، عقل خاموشی میں بولتی ہے، اس کا استدلال پُرسکون ہوتا ہے، مگر اس کی گہرائی ذہنوں میں اتنی دور تک سرایت کر جاتی ہے کہ نسلوں تک اس کا اثر باقی رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ کم علم اور کم فہم ہوتے ہیں، وہ اپنی جہالت کو چھپانے کے لیے بلند آواز میں بحث کرتے ہیں، دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، اور اپنے باطل خیالات کو سچ ثابت کرنے کے لیے جذباتی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ اہلِ عقل، جن کی نظر حقیقت پر ہوتی ہے، وہ خاموشی کو اختیار کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وقت ہی سب سے بڑا منصف ہے، اور سچائی کو ثابت کرنے کے لیے بے جا شور کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہ دنیا ایک بڑے تھیٹر کی مانند ہے، جہاں جہالت ہمیشہ خود کو مرکزی کردار سمجھ کر بلند آواز میں مکالمے دہراتی ہے، جبکہ عقل پسِ پردہ رہ کر حقیقت کی سمت رہنمائی کرتی ہے۔ یہ درختوں کی مانند ہے: بےثمر درخت دور سے ہی چیختے نظر آتے ہیں، تیز آندھی میں جھومتے، شور مچاتے، اور اپنی کمزوری کا اظہار کرتے ہیں، مگر وہ درخت جو پھلوں سے لدے ہوں، وہ خاموشی کے ساتھ جھک جاتے ہیں، عاجزی اختیار کرتے ہیں، اور اپنی موجودگی کا اعلان کسی شور سے نہیں، بلکہ اپنے ثمر سے کرتے ہیں۔
لہٰذا، جب بھی جہالت چیختی نظر آئے، اور عقل خاموشی اختیار کرے، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وقت کے کٹہرے میں فیصلے دلیل کے ترازو میں ہوتے ہیں، نہ کہ شور و غوغا کے ہنگام میں۔ ہمیشہ یاد رکھیں، سورج اپنی روشنی کا اعلان شور سے نہیں کرتا، بلکہ اپنے نور سے کرتا ہے۔
