(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
محبت کے سب سے خوبصورت لمحے وہ ہوتے ہیں جو جدائی سے پہلے آتے ہیں۔ وہ لمحے جب دل بے خبر ہوتا ہے، مگر فضا میں کوئی انجانی اداسی گھلنے لگتی ہے۔ وہ پل جب ہنسی گونجتی تو ہے، مگر کہیں نہ کہیں ایک نامحسوس سی دراڑ پڑ چکی ہوتی ہے۔
یہی محبت کا سب سے پراسرار پہلو ہے—بچھڑنے سے پہلے وقت جیسے سست پڑ جاتا ہے، ہر لمس زیادہ گہرا محسوس ہونے لگتا ہے، ہر نظر میں کوئی ان کہی بات جھلکنے لگتی ہے، اور ہر گفتگو کے اندر ایک خاموشی سر اٹھانے لگتی ہے، جیسے ہوا میں کوئی نامرئی چراغ جل رہا ہو، جو بجھنے سے لمحہ بھر پہلے اپنی آخری چمک بکھیر رہا ہو۔
انسان ہمیشہ خوشی کے لمحے میں رہنا چاہتا ہے، مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بعض خوشیاں جدائی کے سائے میں زیادہ روشن ہو جاتی ہیں۔ شاید اسی لیے کچھ لمحات ہمیشہ یاد رہ جاتے ہیں—وہ آخری مسکراہٹ، وہ آخری ہاتھ چھونے کی حرارت، وہ آخری نظر جو دل میں پیوست ہو جاتی ہے۔ محبت کی معراج دراصل وہ لمحہ ہے جب ہم بچھڑنے سے بے خبر ہوتے ہیں، مگر ہماری روح کہیں نہ کہیں جان چکی ہوتی ہے کہ یہ قُرب آخری ہے۔
یہی محبت کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہے—اس کے سب سے حسین لمحے جدائی کے قریب ہوتے ہیں۔ جیسے شام کی سرخی، جو سب سے زیادہ حسین تب لگتی ہے جب رات کا اندھیرا اسے نگلنے والا ہوتا ہے۔ جیسے خزاں کے وہ آخری پتے، جو سب سے زیادہ سنہری تب نظر آتے ہیں جب شاخ سے ٹوٹنے والے ہوتے ہیں۔
محبت کے سب سے خوبصورت لمحے دراصل وہ ہوتے ہیں جب ہم ان کی خوبصورتی کو محسوس تو کر رہے ہوتے ہیں، مگر ان کے فنا ہونے کی آہٹ نہیں سن پاتے۔ اور شاید یہی محبت کا اصل جادو ہے—وہ ہمیں اپنی سب سے گہری حقیقت سے غافل رکھتی ہے، تاوقتیکہ وہ لمحہ گزر نہ جائے، اور ہم پلٹ کر دیکھیں… تب ہمیں سمجھ آتی ہے کہ اصل خوبصورتی، اصل شدت، اصل زندگی… ہمیشہ جدائی سے ذرا پہلے بسی ہوتی ہے۔
