کبھی تو دن کی روداد کچھ سناؤ مجھے
کہاں بسر ہوئیں راتیں، یہ تو بتاؤ مجھے
اے زندگی، مجھے کر دے، معاف میری کجی
نہیں ہے سیکھنا کچھ تیرا رکھ رکھاؤ مجھے
جو غرق کر دے عقل و خرد کو ویسا نہیں
جو آنکھ کھول دے ایسا نشہ پلاؤ مجھے
اُٹھائے جاتے نہیں عشوہ ناز گر تم سے
تو کر کے دیکھ لو کوشش کہ بھول جاؤ مجھے
یہ کیسا رشتہ ہے جسم و جان سے بڑھ کر
کہ چوٹ اس کو ہے لگتی لگے ہے گھاؤ مجھے
یہ دنیا داری مرے سر پہ چڑھتی جاتی ہے
نکالو اس سے یا دنیا سے دور ہٹاؤ مجھے
میں اپنے آپ سے ملنے کی تگ و دو میں ہوں
خدا کرے کہ مری ذات سے ملاؤ مجھے
تمہارے جیسا نہیں دوسرا زمانے میں
ہو کوئی تم سا تو لا کر کہیں دکھاؤ مجھے
میں خاک زاد ہوں، مٹی مری حقیقت ہے
بلند و پست کے قصوں سے تو نہ ڈراؤ مجھے
نظر میں اپنی جگہ دے ہی دی ہے تم نے نعیم
پلک پہ رکھو، یا دل میں اب بٹھاؤ مجھے
