کرم یافتہ لوگ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کچھ چہرے ہوتے ہیں جو بظاہر عام دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی خاموشی میں صدیوں کی اذانیں چھپی ہوتی ہیں۔ ان کی چال میں خاک کی گونج ہوتی ہے بوجھ نہیں، ایک اور جہان کی لطافت ہوتی ہے،وہ جہان جو نہ وقت کی قید میں ہے، نہ مکان کی حد میں؛ جہاں خیال بھی سجدے میں جاتا ہے اور خاموشی بھی تسبیح بن جاتی ہے۔ ان کے وجود سے وہ مہک آتی ہے جو جسم کی نہیں، روح کی ہوتی ہے — وہ مہک جو قرب کی علامت ہے، اور جسے صرف وہی سونگھ سکتا ہے جس کے دل میں طلب کی آگ جل رہی ہو۔ یہ لوگ دھوپ میں بھی چھاؤں کی مانند، اور ہجوم میں بھی تنہا ہوتے ہیں۔ نہ ان کے قدموں تلے سلطنت ہوتی ہے، نہ سروں پر تاج، مگر ان کے اندر ایک ایسی سلطنت آباد ہوتی ہے جو نہ فنا ہوتی ہے، نہ فخر مانگتی ہے۔ یہ کرم یافتہ لوگ ہوتے ہیں۔
ان کا کرم ان کی دستار نہیں، ان کی نظر ہوتی ہے؛ جو جس پر پڑ جائے، اسے بھی رب سے جوڑ دے۔ یہ لوگ دعا مانگنے نہیں آتے، دعا بن کر زندگی میں اترتے ہیں۔ ان کے وجود سے خوشبو نہیں آتی، سکون آتا ہے؛ جیسے صبحِ صادق کے وقت رب کی صدا کسی کے دل میں اتر رہی ہو۔
یہ نہ مقدس لفظوں کے خطیب ہوتے ہیں، نہ مجلسوں کے مقرر، مگر ان کی خاموشی ایک ایسی تقریر ہوتی ہے جو صرف سننے والوں کے دل ہی سن پاتے ہیں۔ ان کا علم کتابوں میں نہیں، دلوں میں ہوتا ہے؛
ان کی دلیل نہ بحث کی میز پر رکھی جاتی ہے،
نہ منطق کے قرینوں سے ناپی جاتی ہے — وہ تو دل کے داغوں سے نکلنے والی روشنی ہوتی ہے جو صرف وہ دیکھتا ہے جس نے راتوں کو جاگ کر رب کو پکارا ہو۔ یہ لوگ وہ ہیں جو “میں” سے نکل کر “وہ” بن چکے ہوتے ہیں۔ ان کا جینا بھی فانی ہوتا ہے اور مرنا بھی باقی۔ وہ نہ زندگی کو تھامتے ہیں، نہ موت سے ڈرتے ہیں، کیونکہ ان کے لیے زندگی، ایک امانت؛ اور موت، ایک اقرار ہوتی ہے۔
جب دنیا دھوکہ دے، یہ سچ بن کر ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ جب زمانہ تھک ہار کر امید سے خالی ہو جائے، تو یہ خاک نشین لوگ دعا بن کر دل کی جھولی میں اترتے ہیں —
یوں جیسے رب اپنے کسی بندے کو خاموشی سے تھام لے۔ ان کے سجدے وقت کے پیمانوں سے آزاد، اور ان کے آنسو زمین کے بجائے عرش پر گرتے ہیں۔ ان کی عبادت مسجدوں کی دیواروں میں قید نہیں، درویشی کے دھیان میں جاری رہتی ہے۔ ان کی دعا نہ آواز مانگتی ہے، نہ ادا —وہ تو دل کے سکوت میں تسبیح بن کر بہتی ہے، جیسے کوئی بے طلب تجلی دل سے نکل کر بارگاہِ یار میں پہنچتی ہو۔
یہ فقیر ہو کر بھی سلطان ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس وہ چیز ہوتی ہے جو بادشاہوں کو نصیب نہیں — معرفت۔ اور معرفت کوئی علم نہیں، یہ قرب ہے؛ وہ قرب جسے لفظ چھو نہیں سکتے، اور عقل سمجھ نہیں سکتی۔ یہ ایک نور ہے جو دل میں اترتا ہے، اور پھر انسان کو اس کا اصل دکھاتا ہے۔
یہی وہ لوگ ہیں جن کی دنیا خاموش ہوتی ہے، مگر اندر قیامتیں برپا ہوتی ہیں۔ ان کی مسکراہٹ میں صبر چھپا ہوتا ہے، اور آنکھوں میں وہ کہانیاں ہوتی ہیں جو صرف رب سمجھتا ہے۔ ان کی زندگی میں شکوہ نہیں ہوتا، فقط شکر ہوتا ہے — شکر اس لیے نہیں کہ سب کچھ ملا ہے، بلکہ اس لیے کہ جو کچھ بھی نہیں ملا، وہ بھی اس کی رضا میں شمار ہوتا ہے۔
یہ لوگ کسی فرقے کے نہیں، کسی مسلک کے نہیں؛ یہ روشنی کے لوگ ہوتے ہیں، جو اندھیروں میں راستہ دکھاتے ہیں۔ ان کی زبانیں زخموں کو لفظ نہیں دیتیں، مرہم دیتی ہیں۔ ان کے قدم جہاں پڑتے ہیں، وہاں سکون کی فصلیں اُگتی ہیں۔ ان کے دل نہ بڑے مکانوں میں رہتے ہیں، نہ دولت کے خزانوں میں — وہ رب کے قرب میں بسیرا کرتے ہیں، اور اسی میں جیتے ہیں۔
کبھی کسی کی خاموشی میں تمہیں اپنا جواب ملے، کبھی کسی کے چہرے پر تمہیں اپنا رب دکھائی دے، کبھی کسی کے سجدے میں تمہیں اپنی طلب جلتی ہوئی محسوس ہو —
تو سمجھ لینا، تم کرم یافتہ لوگوں کی صحبت میں ہو۔
اور یاد رکھو، کرم ہمیشہ مانگنے سے نہیں ملتا، کبھی کبھار وہ خود آ کر سینے میں اتر جاتا ہے — بے آواز، بے اجازت، مگر مکمل۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top