کثرتِ موجود میں رازِ نہاں کو دیکھنا

غزل

کثرتِ موجود میں رازِ نہاں کو دیکھنا
قطرے کی آغوش میں دریا رواں کو دیکھنا

ہر نفس اک آئینہ ہے جلوہ گاہِ ذات کا
بند آنکھوں میں بھی پورے گلستاں کو دیکھنا

منزلِ مقصود کیا ہے، نقشِ پا کی دھول ہے
راستے کی خاک میں اپنے نشاں کو دیکھنا

پھر رہا ہے کیوں یہاں تُو ،اے دلِ ناداں بتا!
اپنے ہی دل میں جہانِ لامکاں کو دیکھنا

مٹ کے ہی پایا ہے ہم نے زندگی کا رازِ جاں
خاکِ تیرہ میں چراغِ جاوداں کو دیکھنا

معرفت کے باب میں ہے فکرِ پیہم ہی، نعیم
اپنے ہی ذرے میں خورشیدِ جہاں کو دیکھنا

نعیم باجوہ

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top