(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
دنیا کے شور میں ہم اپنی ہی آواز سے بیگانہ ہو جاتے ہیں۔ ہم دھاگوں کی مانند مسلسل کسی نہ کسی حقیقت سے بندھے، وقت کی سلائی میں الجھے، ایک نقطے سے دوسرے نقطے تک کھنچتے چلے جاتے ہیں۔ روزمرہ کی اس دوڑ میں ہم خود کو اتنا پیچھے چھوڑ دیتے ہیں کہ جب کبھی رک کر اپنی ہی روح کو پکارنے کی کوشش کرتے ہیں، تو جواب میں صرف ایک سناٹا سنائی دیتا ہے۔ مگر یہ سناٹا محض خاموشی نہیں، بلکہ ایک گہرا سمندر ہے—جتنا اس میں اتریں، اتنا ہی اپنی حقیقت کی لہریں واضح ہوتی جاتی ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب بیرونی دنیا کی صدائیں ماند پڑ جاتی ہیں، اور باطن کی گونج واضح ہونے لگتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شور زندگی کی علامت ہے، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ خاموشی ہی وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنا اصل چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ خاموشی، جو ابتدا میں محض ایک سناٹے کی مانند لگتی ہے، درحقیقت ہمارے اندر بکھرے سوالوں کو سمیٹنے کا عمل ہے۔ یہ ہمیں ان حقیقتوں سے روشناس کراتی ہے جنہیں ہم نے اپنی ہی مصروفیت کے شور میں کہیں دفن کر دیا تھا۔
ہم اکثر اپنی ذات کو دریافت کرنے کے لیے دنیا کی وسعتوں میں سرگرداں رہتے ہیں، مگر جو راز سب سے گہرے ہیں، وہ باہر نہیں، ہمارے اپنے اندر دفن ہیں۔ یہ وہی راز ہیں جو اس وقت آشکار ہوتے ہیں جب ہم خود کو لمحۂ سکون کے حوالے کر دیتے ہیں۔ جیسے سمندر کی گہرائی میں اترنے کے بعد سطح کا ہنگامہ بےمعنی لگنے لگتا ہے، ویسے ہی جب ہم اپنے اندر کی خاموشی میں ڈوبنے لگتے ہیں، تو دنیا کی شوریدہ حقیقتیں بھی ایک سراب دکھائی دینے لگتی ہیں۔
یہ وہ نکتہ ہے جہاں خاموشی ہمیں قید نہیں کرتی، بلکہ آزاد کر دیتی ہے۔ یہاں وقت اپنا جبر کھو دیتا ہے، فاصلے بےمعنی ہو جاتے ہیں، اور حقیقت ایک کھلی کتاب کی مانند ہمارے سامنے عیاں ہو جاتی ہے۔ دنیا، جو ہمیں ہمیشہ کسی بھاگ دوڑ میں مبتلا رکھتی ہے، اچانک رک کر ہمیں دیکھتی ہے، جیسے وہ چاہتی ہو کہ ہم اسے تسلیم کریں، مگر اپنی حقیقی ذات کے ساتھ۔
یہی خود شناسی کا مقام ہے—جہاں شور مدھم پڑتا ہے، خیالات کی گونج صاف ہوتی ہے، اور ہم اپنے اصل سے جڑنے لگتے ہیں۔ یہ لمحہ کسی خارجی دریافت کا نہیں، بلکہ اپنی داخلی کائنات میں واپسی کا لمحہ ہوتا ہے۔ یہاں، اس خاموشی کے سمندر میں، ہم اپنی ہی گمشدہ لہروں سے ہمکلام ہو جاتے ہیں، اور حقیقت اپنے تمام تر رازوں کے ساتھ ہمیں تسلیم کر لیتی ہے۔
