خواب

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی کی دوڑ میں ہم سب عمر کے بدلتے ہندسوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ بچپن کے معصوم لمحے، جوانی کی تیز گام خواہشیں، اور بڑھاپے کی ٹھہراؤ بھری صبحیں۔ سب وقت کے بہاؤ کا حصہ ہیں۔ لیکن اس تمام گردش میں ایک چیز اپنی اصل میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے: خواب۔ وہ خواب جو عمر کے کسی قید خانے میں قید نہیں ہوتے، جن کی نبض میں ہمیشہ ایک سرخ گرم لہو دوڑتا رہتا ہے۔

یہ خواب صرف رات کے اندھیروں میں سجنے والی خیالی دنیا نہیں ہوتے بلکہ وہ داخلی حدت ہیں جو انسان کو جینے کا جواز فراہم کرتی ہیں۔ بچپن میں یہ خواب تتلیوں کے پیچھے بھاگنے یا ستاروں کو چھونے کے ہوتے ہیں۔ جوانی میں یہ خواب پہاڑوں کو سر کرنے یا دنیا کو فتح کرنے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، اور بڑھاپے میں یہ خواب وقت کی بے ثباتی کو سمجھنے اور سکون کی تلاش بن جاتے ہیں۔ مگر ایک بات ان تمام خوابوں میں مشترک رہتی ہے: ان کی نبض میں چلتا لہو کبھی سرد نہیں ہوتا۔

عمر کی زنجیریں:
خوابوں کے آزاد پرندے
معاشرہ ہمیں یہ باور کرواتا ہے کہ خواب دیکھنے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ بچپن میں معصوم خواہشات جائز ہیں، جوانی میں عملی مقاصد کا تعاقب ضروری ہے، اور بڑھاپے میں صرف یادوں کے زخم چاٹنے کا حق ہے۔ لیکن یہ سوچ انسانی فطرت کی نفی ہے۔ خواب عمر کی قید میں نہیں بندھتے۔ وہ آزاد پرندے ہیں جو انسان کی روح سے جڑے ہوتے ہیں اور جب تک سانس باقی ہے، ان کا وجود برقرار رہتا ہے۔
رومی نے کہا تھا:
“خواب وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔”

یہ روشنی عمر کے کسی ہندسے کی محتاج نہیں ہوتی۔ اگر انسان کے اندر خواب دیکھنے کی تڑپ موجود ہو، تو وقت کا پہیہ کتنا ہی گردش کیوں نہ کرے، زندگی کی حدت برقرار رہتی ہے۔
کیا گلیلیو (Galileo) نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں خواب دیکھنا چھوڑ دیا تھا؟
کیا وین گوگ (Van gogh) نے مصائب کے باوجود رنگوں میں خوابوں کی تعبیر تلاش کرنا ترک کر دیا تھا؟
کیا فیض احمد فیض کی شاعری بڑھاپے کی قید میں آ کر مدھم ہوئی؟
نہیں! یہ سب اس بات کے زندہ ثبوت ہیں کہ خواب زندگی کی وہ روشنی ہیں جو وقت کے ہر ہندسے کو بےمعنی بنا دیتی ہے۔

جب ایک بوڑھا کسان اپنی زمین پر نئی فصل بونے کا خواب دیکھتا ہے، تو وہ خواب اس کے لہو میں وہی حدت پیدا کرتا ہے جو کسی نوجوان کے کاروباری خواب میں ہوتی ہے۔ جب ایک ضعیف مصور کینوس پر نئے رنگ بکھیرتا ہے، تو اس کے دل کی دھڑکن میں وہی جوش ہوتا ہے جو کسی جوان آرٹسٹ کے پہلے شاہکار میں ہوتا ہے۔

یہ خواب ہی ہیں جو زندگی کو بوسیدہ ہونے سے بچاتے ہیں۔ جب تک انسان کے اندر خواب دیکھنے کا جذبہ زندہ ہے، وہ کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔
خواب زندگی کی وہ نبض ہیں جن کا عمر کے بدلتے ہندسوں سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ ہمیں جینے کا جواز دیتے ہیں، آگے بڑھنے کا حوصلہ فراہم کرتے ہیں، اور ہماری روح کو ہمیشہ جوان رکھتے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بڑھتی عمر کے ساتھ خواب دیکھنا بند ہو جانا چاہیے، وہ درحقیقت زندگی کی اصل حرارت کو مٹا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
لہذا، خواب دیکھتے رہو۔ ان کی حدت کو اپنے وجود میں محسوس کرو، چاہے وقت کی گردش کتنی ہی بےرحم کیوں نہ ہو۔ کیونکہ جب تک خواب زندہ ہیں، زندگی زندہ ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top