خدا کی طلب کا ارادہ کریں
محبت الٰہی زیادہ کریں
ہوئے ہیں جو پیمانِ روزِ ازل
انہیں کا ہی ہم پھر اعادہ کریں
قناعت کی چادر میسر جو ہو
اسی کو بدن کا لبادہ کریں
خودی سے جو نکلیں تو منزل ملے
خیالات اپنے کشادہ کریں
نعیم اپنی ہستی مٹائیں اگر
حقیقت کا تب ہی مشاہدہ کریں
