(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
رات کے گہرے سناٹے میں، جب ہر شے اپنی موجودگی کے بوجھ سے آزاد ہو جاتی ہے، تب کہیں دور، کسی انجانی وادی میں ایک چراغ جلتا ہے— روشنی کا ایک ذرہ، جو گمشدہ راہرو کو اپنی جانب بلاتا ہے۔ مگر یہ چراغ باہر نہیں، اندر جل رہا ہوتا ہے؛ یہ وہی نور ہے جسے ہم نے زمانے کے ہنگام میں کھو دیا تھا، مگر جو کبھی بجھا نہ تھا، صرف نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا۔
زندگی کے بازار میں، ہم اپنی حقیقت کو سود و زیاں کے ترازو میں تولنے لگتے ہیں، خود کو ان شناختوں میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں جو درحقیقت پانی کے بلبلوں کی مانند ہیں— لمحہ بھر کے لیے جھلملاتے ہیں اور پھر نیستی میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ جب یہ سب مایا ایک ایک کر کے ہاتھوں سے پھسلتی ہے، تو وجود ایک بے وزنی کے عالم میں داخل ہو جاتا ہے، جیسے دریا کی سطح پر بہتی ہوئی کوئی بے سمت کشتی۔ مگر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہم جانتے ہیں کہ یہ بے وزنی درحقیقت بلندی کا پیش خیمہ ہے، یہ خلا حقیقت کے انکشاف کی تمہید ہے۔
یہ سفر ایک قافلے کی مانند نہیں، جہاں راستے نشان زدہ ہوتے ہیں اور سنگِ میل راستہ دکھاتے ہیں۔ یہ ایک دریا ہے، جس میں غوطہ لگانے والے ہی اس کے بھید پاتے ہیں۔ جو سطح پر رہتا ہے، وہ صرف لہروں کے اتار چڑھاؤ میں الجھتا ہے، مگر جو خود کو گہرائی کے سپرد کر دیتا ہے، وہ وہاں سے اپنی اصل کو لے کر نکلتا ہے— وہ اصل جو نہ وقت کی زنجیروں میں قید ہے، نہ دنیاوی تعارف کی محتاج۔
یہاں پہنچ کر ایک عجیب حقیقت آشکار ہوتی ہے: کھونے میں پانے کا راز مضمر ہے، فنا میں بقا کی کنجی چھپی ہوئی ہے۔ انسان جب اپنے ظاہر کی قید سے آزاد ہوتا ہے، تب وہ اپنی باطنی حقیقت کے آسمان پر پرواز کرتا ہے، جہاں نہ خوف کی زنجیریں ہیں، نہ خواہشوں کی دھند۔ یہ وہ مقام ہے جہاں خودی، جو کبھی دنیاوی سراب میں گم تھی، اپنی اصل میں جلوہ گر ہوتی ہے— ایک چراغ کی مانند، جو باہر سے جلتا نہیں، بلکہ اندر سے روشن ہوتا ہے۔
یہ سفر نہ راستوں میں ہے، نہ زادِ راہ کا محتاج۔ یہ ایک پل میں طے ہو سکتا ہے، یا صدیاں درکار ہو سکتی ہیں۔ مگر جو اس راستے پر چلنے کا حوصلہ کر لے، وہ جان لیتا ہے کہ گم ہو جانا ہی دراصل دریافت کی پہلی شرط ہے، اور جب یہ شرط پوری ہوتی ہے، تو روشنی خود راستہ بننے لگتی ہے۔
