(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
زندگی کے طویل و عریض کینوس پر خوشی محض ایک رنگین جھلک ہے، جو حقیقت کے سنگین خاکے کو کچھ لمحوں کے لیے دھندلا دیتی ہے۔ یہ ایک فریبِ نظر ہے، جو تھکے ہوئے مسافر کو سراب کی صورت نخلستان کا گمان دیتا ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے—مایوسی انسان کے شعور میں ایک ایسی دراڑ ڈال دیتی ہے جہاں خوشی صرف ایک مرہم کی طرح کام آتی ہے، نہ کہ کسی حقیقی نجات کی صورت میں۔
مایوسی کی کوکھ سے جنم لینے والی خوشی اکثر محض تسکین کا ایک عارضی ذریعہ ہوتی ہے، ایک ایسا لمحاتی سہارا جسے انسان اپنی شکستہ امیدوں کے ملبے پر تعمیر کرتا ہے۔ کوئی اسے موسیقی میں ڈھونڈتا ہے، کوئی کسی خواب کے تعاقب میں، کوئی تعلقات کی نرمی میں، اور کوئی روحانیت کی پناہ میں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آیا یہ سب حقیقی خوشی ہے، یا فقط مایوسی کی شدت کو کم کرنے کا ایک لطیف حیلہ؟
حقیقت یہ ہے کہ مایوسی کی سب سے بڑی چال یہی ہے کہ وہ خوشی کو ایک ناگزیر ضرورت بنا دیتی ہے، ایک ایسی دوا جس کی خوراک ہم بار بار لینا چاہتے ہیں، مگر مرض پھر بھی برقرار رہتا ہے۔ خوشی اکثر ایک ایسا سایہ ہے جو روشنی کا گمان دیتا ہے، لیکن جیسے ہی حقیقت کی دھوپ تیز ہوتی ہے، یہ سایہ تحلیل ہو جاتا ہے۔
شاید اصل خوشی وہی ہے جو کسی وقتی فریب پر مبنی نہ ہو، جو کسی تسلی، کسی سراب یا کسی خودساختہ اطمینان کی محتاج نہ ہو—وہ خوشی جو اپنے وجود میں کامل ہو، جو اندرونی سکون سے جنم لے، اور جس کی بنیاد کسی مایوسی کے ردعمل پر نہ ہو، بلکہ خود اپنے ہونے کی سچائی پر ہو۔
زندگی کی سب سے بڑی بصیرت شاید یہی ہے کہ ہم خوشی کے سراب میں بھٹکنے کے بجائے اپنی مایوسی کی گہرائی کو سمجھیں، اس کے اسرار میں جھانکیں، اور اس سے وہ روشنی کشید کریں جو عارضی مسرتوں سے کہیں زیادہ پائیدار ہو۔ کیونکہ جو خوشی مایوسی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے، وہ اکثر محض ایک لطیف دھوکہ ہوتی ہے—کبھی ایک لمحے کی تسکین، کبھی ایک خوبصورت خیال، اور کبھی ایک خواب، جو آنکھ کھلتے ہی بکھر جاتا ہے۔
