(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
جو سایوں کے تعاقب میں روشنی کو ٹھکرا دیتے ہیں، وہ ہمیشہ سراب کے مسافر رہتے ہیں۔
انسان ہمیشہ حقیقت سے نظر چرا کر خوابوں کی پناہ میں سچائی تلاش کرتا ہے۔ وہ خواب جو زندگی ہمیں دکھا کر حقیقت کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں، اکثر وہی خواب ہماری بےچینی کی سرگوشیاں بن جاتے ہیں، جو ہمیں خود سے ہی دور لے جاتے ہیں۔
خواب انسان کی آخری پناہ گاہ ہوتے ہیں، جہاں وہ اپنی حقیقت کو قبول کرنے سے گھبراتا ہے۔ حقیقت سامنے کھڑی ہوتی ہے، مگر ہم اسے آنکھوں سے پہچاننے کے بجائے، خوابوں کی نرم دھند میں چھپنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے قدموں تلے زندگی کے راستے بکھرے ہیں، مگر ہم اپنی کھڑکی کے کنارے بیٹھے انہیں ایک دھندلا منظر سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
خوابوں کی دنیا میں انسان ایک بے خود مسافر کی طرح بھٹک رہا ہوتا ہے، جو اپنی سچائی کو خوابوں کے پردوں میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ راستے جو حقیقت میں کانٹوں سے بھرے ہوتے ہیں، خوابوں میں اتنے ہموار اور روشن دکھائی دیتے ہیں کہ انسان ان سے نکلنے کی ہمت نہیں کرتا۔
شاید یہی زندگی کا المیہ ہے—کہ ہم حقیقت کو سامنے رکھ کر بھی خوابوں میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم خود کو حقیقت سے بچانے کی سعی کرتے ہیں، مگر سچائی ایک دن ہمیں ایسا گھیرتی ہے کہ ہماری نیندیں، ہماری آوارہ بیداریاں سب اس کی گرفت میں آ جاتی ہیں۔ جب خواب ٹوٹتے ہیں، تو ایک تلخ سچائی ہمارا سامنا کرتی ہے، جس کے آگے خوابوں کی تمام چمک مانند پڑ جاتی ہے۔
خواب آئینے ہوتے ہیں، جو ہمیں ہماری اصل صورت دکھانے کے لیے ہوتے ہیں، مگر ہم انہیں وہ پردے سمجھ لیتے ہیں جو ہمیں حقیقت سے چھپانے کے لیے بنے ہوں۔ مگر آخرکار، حقیقت ہمیشہ اپنے تمام تر جبر کے ساتھ سامنے آ جاتی ہے—چاہے ہم خوابوں میں کتنے ہی کھوئے رہیں۔
