خوابوں کے جنازے اور امکانات کی بند گلی

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

شہر کی سڑکوں پر ہزاروں نوجوان ہر روز ایک نئی امید کے ساتھ نکلتے ہیں، ہاتھوں میں ڈگریاں، ذہن میں سوال، اور دل میں ایک عجیب سا خوف—”کیا میرے لیے کوئی جگہ ہے؟” وہ نوکری کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، مگر اکثر جواب وہی ہوتا ہے: “تجربہ چاہیے!” مگر یہ تجربہ کہاں سے آئے جب انہیں کبھی موقع ہی نہیں دیا گیا؟

پاکستان میں بے روزگاری صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں، یہ ایک اجتماعی سانحہ ہے۔ یہ ان خوابوں کا قتل ہے جو ماؤں نے اپنے بچوں کے لیے دیکھے تھے، یہ ان امیدوں کا خون ہے جو والدین نے اپنے بڑھاپے کے سہارے کے طور پر پالی تھیں۔ یہاں ایک نوجوان برسوں کی محنت کے بعد انجینئر، ڈاکٹر، یا ایم بی اے تو بن جاتا ہے، مگر بازار میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

یہاں یا تو نوکریاں ہیں نہیں، اور اگر ہیں تو ان کے لیے سفارش چاہیے۔ ایک عام نوجوان اپنی قابلیت کے بل پر آگے بڑھنا چاہے، تو سسٹم اس کے راستے میں دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں نوکریاں کم ہیں، اور جو ہیں، ان کی تنخواہیں اتنی قلیل ہیں کہ گزارا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

حکومتی سطح پر اسکیمیں تو بہت بنائی جاتی ہیں، مگر حقیقت میں مواقع پیدا نہیں کیے جاتے۔ نوجوانوں کو صرف تسلیاں دی جاتی ہیں، یا پھر انہیں خود روزگار کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے—مگر کاروبار کرنے کے لیے بھی تو سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، جو بیشتر کے پاس نہیں ہوتا۔

نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں نوجوان یا تو ملک چھوڑنے کے خواب دیکھتے ہیں، یا پھر مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ کچھ جرائم کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، کچھ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر اپنی ہی زندگی کے دشمن بن جاتے ہیں۔

یہ مسئلہ یوں ہی نہیں حل ہوگا۔ جب تک حکومت معیاری روزگار کے مواقع پیدا نہیں کرے گی، جب تک تعلیمی نظام کو عملی مہارتوں کے مطابق ڈھالا نہیں جائے گا، اور جب تک قابلیت کو سفارش پر فوقیت نہیں دی جائے گی، تب تک یہ مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔

ورنہ ہم ہر سال نئی نسل کو بس ایک ہی سبق دیتے رہیں گے: “خواب دیکھو، مگر انہیں پورا کرنے کی امید مت رکھو!”

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top