(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسانی سوچ ایک بہتے دریا کی مانند ہے—یہ اپنے راستے خود تراشتی ہے، رکاوٹوں کو چیرتی ہے، اور جس ظرف میں سمائی جائے، اسی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مگر اس بہاؤ میں ایک نادیدہ طاقت بھی چھپی ہوتی ہے، جو اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے: خواہش۔ یہ ایک سرگوشی کی طرح خاموشی سے ہمارے خیالات میں در آتی ہے، ہمیں یقین دلاتی ہے کہ جو کچھ ہم سوچ رہے ہیں، وہی اصل حقیقت ہے، حالانکہ وہ دراصل ہماری اپنی چاہتوں کا عکس ہوتا ہے۔ خواہش ایک جادوگرنی کی مانند ہمیں وہی دکھاتی ہے جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں، وہی سناتی ہے جو ہمارے دل کے قریب ہوتا ہے، اور وہی سوچنے پر مائل کرتی ہے جو ہمارے مفاد میں ہو۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقیقت ہے؟ کیا ہم واقعی سچائی تک پہنچ رہے ہیں، یا محض اپنی خواہش کے تراشے ہوئے سراب کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہیں؟
صحرا میں پیاسا مسافر جب دور کہیں پانی کا سراب دیکھتا ہے، تو اسے حقیقت جان کر دوڑ پڑتا ہے، مگر جیسے ہی قریب پہنچتا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف ریت کی چمک تھی۔ یہی حال انسانی فکر کا بھی ہے—جب تک ہماری عقل خواہش کے زیرِ اثر ہو، ہم سرابوں کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں، سچائی کو نہیں دیکھ پاتے اور اپنی ہی فریب خوردہ بصیرت پر بھروسہ کر بیٹھتے ہیں۔
سچ ایک پہاڑ کی مانند ہے، جو اپنی جگہ قائم رہتا ہے، جبکہ خواہش بادل کی طرح ہے، جو لمحہ بہ لمحہ بدلتی رہتی ہے۔ اگر تم اپنی سوچ پر بھروسہ کرنا چاہتے ہو، تو دیکھو کہ وہ بادل کی طرح بدلتی تو نہیں؟ کیا تم کسی ذاتی ضرورت، کسی اندرونی خوف یا کسی لالچ کے تحت وہ کچھ سوچ رہے ہو جو حقیقت نہیں بلکہ تمہارے مفاد میں ہے؟
جب تم اپنی سوچ میں مکمل خاموشی محسوس کرو، جب تمہیں لگے کہ کوئی اندرونی اضطراب، کوئی لالچ، کوئی چھپی ہوئی خواہش تمہیں سمت نہیں دے رہی، تب جان لو کہ تمہاری فکر شفاف ہو چکی ہے۔ وہ لمحہ جب تمہارے دل میں کسی فیصلے پر کوئی جھجک نہ ہو، جب تمہاری سوچ خواہش کی سرگوشیوں سے آزاد ہو، وہی لمحہ ہے جب تم اپنی بصیرت پر بھروسہ کر سکتے ہو۔
سچ وہی ہے جو خواہش سے آزاد ہو، اور اصل بصیرت وہی ہے جو خاموشی میں بھی گونجتی رہے۔
