خواتین کا عالمی دن

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

روشنی کے سفر کی کہانی

رات کے سینے میں ایک چنگاری دہک رہی تھی۔ صدیوں سے قید اندھیروں نے اسے بجھانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر وہ راکھ کے نیچے بھی دہکتی رہی، چمکتی رہی، سانس لیتی رہی۔ وہ چنگاری عورت تھی—روشنی کا استعارہ، حیات کا استقامت، خوابوں کی پرچھائیں، ایک نامکمل کہانی، جو ہر روز نئے حروف میں لکھی جا رہی تھی۔

یہ دن اسی چنگاری کا جشن ہے، جو کبھی دیے میں سمٹ کر روشنی بنی، کبھی سورج کی دہلیز پر جا بیٹھی، کبھی چاندنی کی صورت راتوں کی پیشانی پر پھیل گئی، اور کبھی آتش فشاں کی مانند دہک کر پورے نظام کو جھنجھوڑ گئی۔

وہ جو کبھی دریچوں کے پیچھے مقید تھی، آج دریاؤں کی روانی میں بہتی ہے۔ جو کبھی پرندے کے پر کی مانند نازک سمجھی گئی، آج بگولے کی طرح فضاؤں میں اڑتی ہے۔ وہ جو کبھی کہانیوں کی خاموش گواہ تھی، آج خود کہانیاں لکھ رہی ہے۔

اس دن کے سورج تلے، دنیا کی زمین نے وہ قدم بھی دیکھے ہیں جو بیڑیاں توڑ کر نکلے، وہ آنکھیں بھی جو سدا جھکی رہتی تھیں مگر آج افق کا سامنا کر رہی ہیں، وہ ہونٹ بھی جو خاموشی کی مہر میں قید تھے مگر آج انقلاب کے نغمے گا رہے ہیں۔

یہ دن اس خواب کا استعارہ ہے، جو ہر ماں نے اپنی بیٹی کے لیے دیکھا، ہر بیٹی نے اپنی تقدیر میں لکھا، ہر بہن نے اپنے بھائی کی دنیا میں تراشا، اور ہر عورت نے اپنی سانسوں میں پرویا۔ یہ دن اس چراغ کی علامت ہے جو ہواؤں سے بغاوت کرتا ہے، اس درخت کی پہچان ہے جس کی جڑیں زمین کے سینے میں مضبوطی سے اتری ہیں، اس دریا کی آواز ہے جو ہر بند کو توڑنے کے لیے بے تاب ہے۔

یہ دن وہ وعدہ ہے، جو صبحِ ازل سے کیا گیا تھا، کہ عورت صرف سایہ نہیں ہوگی، وہ خود روشنی ہوگی۔ وہ صرف زمین نہیں ہوگی، وہ آسمان بھی ہوگی۔ وہ صرف خاموشی نہیں ہوگی، وہ گرجتی بجلی، برستی بارش، جھومتی ہوا ہوگی۔

یہ دن اُس لمحے کا انتظار ہے، جب چراغوں کو جلانے کی ضرورت ہی نہ رہے، کیونکہ ہر عورت خود ایک منور دیپ ہوگا، ہر زندگی اس کی روشنی میں سنور رہی ہوگی، اور دنیا کی پیشانی پر برابری کا ستارہ سجا ہوگا!

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top